-Advertisement-

اسرائیلی فضائی حملے: بیروت کے مضافات اور جنوبی لبنان کو نشانہ بنایا گیا

تازہ ترین

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں آبنائے ہرمز سے متعلق قرارداد پر آج ووٹنگ متوقع

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل آج آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز رانی کے تحفظ کے لیے ایک قرارداد پر...
-Advertisement-

لبنان کے دارالحکومت بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقوں میں پیر کے روز اسرائیلی فضائیہ نے بمباری کی۔ اسرائیلی فوج کا دعویٰ ہے کہ اس کارروائی کا مقصد حزب اللہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانا تھا۔ حملے کے بعد علاقے سے دھوئیں کے بادل فضا میں بلند ہوتے دیکھے گئے۔

یہ علاقہ حزب اللہ کا گڑھ سمجھا جاتا ہے اور اسرائیلی انتباہ کے بعد یہاں سے بڑی تعداد میں شہری نقل مکانی کر چکے ہیں۔ اسرائیلی فوج نے حملے سے قبل ہی اس علاقے میں حزب اللہ کے اہداف کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا تھا۔

اس سے قبل اتوار کو بیروت کے مشرق میں واقع قصبے عین سعادہ میں ہونے والے ایک حملے میں تین افراد ہلاک ہوئے جن میں دو خواتین بھی شامل تھیں۔ ہلاک ہونے والوں میں لبنانی فورسز کے مقامی عہدیدار پیئر معوض اور ان کی اہلیہ بھی شامل تھے۔ لبنانی فورسز کے سربراہ سمیر جعجع کے مطابق اسرائیلی کارروائی کا ہدف ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی قدس فورس کا ایک رکن تھا، تاہم وہ ہلاک نہیں ہوا۔

اسرائیلی فوج نے اس واقعے کی تحقیقات کا اعلان کیا ہے جس میں عام شہریوں کی ہلاکت کی اطلاعات موصول ہوئی تھیں۔ لبنانی فوج نے اپنے بیان میں کہا کہ جس عمارت کو نشانہ بنایا گیا اس میں کوئی کرایہ دار موجود نہیں تھا، البتہ حملے کے فوری بعد ایک شخص کو موٹر سائیکل پر وہاں سے فرار ہوتے دیکھا گیا جس کی شناخت کی کوشش کی جا رہی ہے۔

جنوبی لبنان میں بھی اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔ کفر رومان میں ایک گاڑی پر حملے کے نتیجے میں چار افراد ہلاک ہوئے۔ برج رحال کے میئر داؤد عزالدین کے مطابق علاقے میں پندرہ گھروں کو شدید نقصان پہنچا ہے جو اب رہائش کے قابل نہیں رہے۔ اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان کے چالیس سے زائد قصبوں کے مکینوں کو انخلا کا انتباہ بھی جاری کر دیا ہے۔

دوسری جانب حزب اللہ نے بھی جوابی کارروائیاں کرتے ہوئے اسرائیلی اہداف کو نشانہ بنایا ہے، جس میں ایک جدید میزائل اور ڈرونز کے ذریعے حادیرا شہر کے قریب ایک فوجی اڈے پر حملہ شامل ہے۔

لبنانی وزارت صحت کے مطابق جنگ شروع ہونے کے بعد سے اب تک ایک ہزار چار سو ستانوے افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں ستاون طبی عملے کے ارکان بھی شامل ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کے سربراہ ٹیڈروس ادھانوم گیبریسس نے طبی مراکز اور عملے پر حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ صحت کی سہولیات پر حملے معمول نہیں بننے چاہئیں۔

لبنان اور شام کے درمیان اہم سرحدی گزرگاہ بھی مسلسل دوسرے روز بند رہی۔ وزارت ٹرانسپورٹ کے عہدیدار احمد تامر کا کہنا ہے کہ گزرگاہ کو اس وقت تک بند رکھا جائے گا جب تک اسے نشانہ نہ بنانے کی ضمانت نہیں مل جاتی۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -