اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل آج آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز رانی کے تحفظ کے لیے ایک قرارداد پر ووٹنگ کرے گی۔ سفارتی ذرائع کے مطابق چین کی جانب سے طاقت کے استعمال کی مخالفت کے بعد قرارداد کے مسودے کو نمایاں طور پر تبدیل کر دیا گیا ہے جس کے بعد اس کے منظور ہونے کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔
بحرین، جو اس وقت سلامتی کونسل کے پندرہ رکنی اجلاس کی صدارت کر رہا ہے، نے روس اور چین سمیت دیگر ممالک کے تحفظات دور کرنے کے لیے مسودے میں کئی بار ترامیم کی ہیں۔ تازہ ترین مسودے سے طاقت کے براہ راست استعمال کی شق نکال دی گئی ہے۔
نئے مسودے میں رکن ممالک کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے کہ وہ آبنائے ہرمز میں تجارتی راستوں کے استعمال کے لیے دفاعی نوعیت کے باہمی تعاون کو فروغ دیں۔ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ یہ اقدامات حالات کے مطابق ہوں گے اور ان کا مقصد بحری جہازوں کی نقل و حمل کو محفوظ بنانا ہے۔
قرارداد کے متن میں تجارتی اور مال بردار جہازوں کو سکیورٹی فراہم کرنے اور آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی جہاز رانی کو روکنے یا اس میں مداخلت کرنے کی کوششوں کو ناکام بنانے کی حمایت کی گئی ہے۔
سفارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ ترمیم شدہ مسودے کی منظوری کی راہ ہموار ہو سکتی ہے تاہم اس حوالے سے حتمی پیش رفت تاحال غیر یقینی ہے۔ قرارداد کی منظوری کے لیے نو ووٹوں کی حمایت درکار ہے جبکہ پانچ مستقل ارکان یعنی برطانیہ، چین، فرانس، روس اور امریکہ کی جانب سے ویٹو کا استعمال نہ ہونا لازمی ہے۔
