-Advertisement-

پاکستان کی سعودی عرب پر ایرانی حملوں کی شدید مذمت، یکجہتی کا اظہار

تازہ ترین

بحر الکاہل میں سات روز سے لاپتہ خاندان کو امریکی کوسٹ گارڈ نے بحفاظت بازیاب کر لیا

بحر الکاہل میں سات روز قبل لاپتہ ہونے والے ایک خاندان کو امریکی کوسٹ گارڈ نے بحفاظت بازیاب کر...
-Advertisement-

دفتر خارجہ نے منگل کے روز مشرقی سعودی عرب میں توانائی کی تنصیبات پر ایران کے میزائل اور ڈرون حملوں پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ان کی شدید مذمت کی ہے۔

وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ بیان میں حملوں کے نتیجے میں ہونے والے جانی نقصان پر افسوس کا اظہار کیا گیا ہے۔ ترجمان نے اہم بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والے نقصان کی مذمت کرتے ہوئے متاثرین کے لواحقین سے تعزیت کی ہے اور اس مشکل گھڑی میں سعودی عرب کی حکومت اور عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اعادہ کیا ہے۔

پاکستان نے ان حملوں کو سعودی عرب کی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ یہ اقدام ایک خطرناک پیش رفت ہے جو خطے میں امن و استحکام کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ پاکستان نے سعودی عرب کی سلامتی کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا بھی اعادہ کیا ہے۔

ایرانی خبر رساں ادارے فارس نیوز کے مطابق ایران نے مشرقی صوبے کے شہر جبیل میں واقع پیٹرو کیمیکل کمپلیکس کو نشانہ بنایا ہے۔ تاہم سعودی حکومتی دفتر، آرامکو اور سبک کی جانب سے اس حوالے سے فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

ایران میں پاکستان کے سفیر رضا امیری مقدم نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جاری جنگ کو روکنے کے لیے پاکستان کی مثبت اور تعمیری کوششیں ایک نازک اور حساس مرحلے میں داخل ہو چکی ہیں۔

پاکستان، جو امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کے لیے ایک اہم کردار کے طور پر ابھرا ہے، گزشتہ برس ستمبر میں سعودی عرب کے ساتھ اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدے پر دستخط کر چکا ہے۔ اس معاہدے کے تحت کسی بھی ایک ملک پر بیرونی حملہ دونوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا جس کے نتیجے میں مشترکہ دفاعی حکمت عملی اپنائی جائے گی۔

ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کے روز تصدیق کی ہے کہ نائب صدر جے ڈی وینس، مشرق وسطیٰ کے لیے امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر پاکستان میں موجود ثالثوں سے رابطے میں ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ یہ تمام افراد متحد ہیں اور بات چیت جاری ہے۔

دوسری جانب ایران نے امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جنگ کے مستقل خاتمے کی خواہش ظاہر کی ہے، تاہم تہران نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے دباؤ کو مسترد کر دیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران نے منگل کی شب تک معاہدے کے لیے ڈیڈ لائن پوری نہ کی تو اسے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -