-Advertisement-

وائٹ ہاؤس نے ایران پر جوہری حملے کی قیاس آرائیوں کو مسترد کر دیا

تازہ ترین

امریکہ کا ایران کے ساتھ دو ہفتے کی جنگ بندی کی پاکستانی تجویز پر اتفاق

واشنگٹن سے موصولہ اطلاعات کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کی شب اعلان کیا ہے کہ انہوں...
-Advertisement-

وائٹ ہاؤس نے ان قیاس آرائیوں کی سختی سے تردید کی ہے کہ نائب صدر جے ڈی وینس کے حالیہ بیانات میں ایران کے خلاف جوہری حملے کا عندیہ دیا گیا ہے۔ یہ وضاحت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے تہران کو دی گئی ڈیڈ لائن قریب ہے اور خطے میں کشیدگی اپنے عروج پر ہے۔

وائٹ ہاؤس نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ان تاثرات کو مسترد کیا جن میں وینس کے بیان کو جوہری ہتھیاروں کے استعمال سے جوڑا گیا تھا۔ نائب صدر نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ امریکی افواج کے پاس ایسی صلاحیتیں موجود ہیں جنہیں استعمال کرنے کا فیصلہ تاحال نہیں کیا گیا، جس کا مقصد واشنگٹن کی جانب سے تہران کو دیا گیا الٹی میٹم نافذ کرنا تھا۔

یہ تردید منگل کے روز ایران کے جزیرہ خارک پر امریکی فضائی حملوں کے بعد سامنے آئی ہے۔ ایک امریکی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ یہ حملے محدود نوعیت کے تھے اور ان میں ایران کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ نہیں بنایا گیا، جو عالمی منڈیوں کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ بوڈاپیسٹ کے دورے کے دوران جے ڈی وینس نے واضح کیا کہ یہ حملے امریکی حکمت عملی میں کسی تبدیلی کا حصہ نہیں ہیں۔

نائب صدر نے کہا کہ واشنگٹن فی الحال توانائی کے مراکز کو نشانہ بنانے سے گریز کر رہا ہے اور یہ تحمل اس وقت تک برقرار رہے گا جب تک ایران سفارتی پیشکشوں پر مثبت ردعمل نہیں دیتا۔ صدر ٹرمپ نے ایران کو منگل کی رات آٹھ بجے تک کی ڈیڈ لائن دی ہے جس میں جوہری عزائم ترک کرنے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے جیسی شرائط شامل ہیں۔ صدر ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں تباہ کن نتائج برآمد ہو سکتے ہیں اور ایک پوری تہذیب ختم ہو سکتی ہے۔

دوسری جانب تہران نے ان مطالبات کو مسترد کرتے ہوئے جوابی کارروائی کی دھمکی دی ہے۔ اس کشیدہ صورتحال کے پیش نظر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز رانی کے تحفظ کے لیے قرارداد پر ووٹنگ کی تیاری کر رہی ہے، تاہم چین کی مخالفت کے باعث اس قرارداد میں طاقت کے استعمال کی شقوں کو کمزور کر دیا گیا ہے۔

ادھر اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے تصدیق کی ہے کہ اسرائیلی افواج نے ایران میں پلوں اور ریلوے کے نظام کو نشانہ بنایا ہے، جن کے بارے میں ان کا دعویٰ ہے کہ انہیں پاسداران انقلاب اسلحہ اور اہلکاروں کی نقل و حمل کے لیے استعمال کر رہے تھے۔ اسرائیل نے ایرانی شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ ٹرینوں اور ریلوے تنصیبات کے قریب جانے سے گریز کریں۔ عالمی قوانین کے تحت شہری بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانا ممنوع ہے، تاہم اسرائیل ماضی میں بھی اس طرح کے اقدامات کر چکا ہے۔ ڈیڈ لائن قریب آنے کے ساتھ ہی سفارتی کوششیں دباؤ کا شکار ہیں اور خطے میں عسکری سرگرمیوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -