-Advertisement-

مصنوعی ذہانت سے امریکہ میں نصف سے زائد ملازمتیں متاثر ہونے کا امکان

تازہ ترین

امریکا اور ایران کے درمیان دو ہفتوں کے لیے جنگ بندی پر اتفاق

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کے روز ایران کے ساتھ دو طرفہ جنگ بندی پر رضامندی کا اعلان...
-Advertisement-

مصنوعی ذہانت یعنی آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے شعبے میں تیزی سے ہونے والی پیش رفت ملازمتوں کی نوعیت کو ڈرامائی انداز میں تبدیل کرنے کے لیے تیار ہے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی زیادہ تر ملازمین کو مکمل طور پر بے روزگار نہیں کرے گی۔ بوسٹن کنسلٹنگ گروپ کی ایک حالیہ تحقیق کے مطابق آئندہ تین برسوں کے دوران امریکا میں 50 سے 55 فیصد ملازمتیں اپنی موجودہ شکل سے تبدیل ہو جائیں گی۔

بوسٹن کنسلٹنگ گروپ کے مینیجنگ ڈائریکٹر اور سینئر پارٹنر میتھیو کروپ کا کہنا ہے کہ ملازمتیں برقرار رہیں گی لیکن ان میں کام کرنے کا طریقہ کار مکمل طور پر بدل جائے گا۔ رپورٹ کے مطابق اگلے پانچ برسوں کے دوران 10 سے 15 فیصد ملازمتیں ایسی ہو سکتی ہیں جنہیں آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے ذریعے تبدیل کر دیا جائے گا۔

میتھیو کروپ نے خبردار کیا ہے کہ کمپنیوں کا یہ فوری ردعمل کہ ملازمتوں میں کٹوتی کی جائے، معاشرے اور کاروباری اداروں دونوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کاروباری رہنماؤں پر زور دیا کہ وہ ملازمین کو نکالنے کے بجائے ان کی صلاحیتوں کو بڑھانے اور نئی مہارتیں سکھانے پر توجہ مرکوز کریں۔

تحقیق میں امریکی لیبر ڈیٹا کا استعمال کرتے ہوئے 1500 ملازمتوں کا جائزہ لیا گیا تاکہ یہ تعین کیا جا سکے کہ کن شعبوں میں اے آئی مددگار ثابت ہوگی اور کہاں یہ متبادل کے طور پر سامنے آئے گی۔ ماہرین کے مطابق سافٹ ویئر انجینئرنگ جیسے شعبوں میں اے آئی کے استعمال سے لاگت میں کمی آئے گی جس سے ان کی مانگ میں مزید اضافہ متوقع ہے۔

اس کے برعکس کال سینٹرز جیسے شعبوں میں ملازمتوں کے خاتمے کا خدشہ ہے کیونکہ اے آئی معمول کے سوالات کے جوابات دینے کی صلاحیت رکھتی ہے جس سے انسانی نمائندوں کی ضرورت کم ہو جائے گی۔ تاہم پلمبرز یا تھراپسٹ جیسے پیشے جو جسمانی موجودگی یا باہمی انسانی رابطے کے مرہون منت ہیں، ان پر مصنوعی ذہانت کے اثرات نہ ہونے کے برابر ہوں گے۔

ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ ماضی کی ٹیکنالوجی کی طرح اے آئی بھی مستقبل میں روزگار کے ایسے نئے مواقع پیدا کرے گی جن کا اس وقت اندازہ لگانا مشکل ہے۔ میتھیو کروپ نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ جس طرح سوشل میڈیا کے عروج سے پہلے کسی نے نہیں سوچا تھا کہ سوشل میڈیا انفلوئنسر بھی ایک پیشہ بن سکتا ہے، اسی طرح اے آئی بھی نئے پیشے تخلیق کرے گی۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -