-Advertisement-

امریکہ کا ایران کے ساتھ دو ہفتے کی جنگ بندی کی پاکستانی تجویز پر اتفاق

تازہ ترین

ایران کو دھمکی: ڈیموکریٹس کا ٹرمپ کی برطرفی کا مطالبہ، ریپبلکنز کی خاموشی

واشنگٹن میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کو آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے دی گئی ڈیڈ لائن...
-Advertisement-

واشنگٹن سے موصولہ اطلاعات کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کی شب اعلان کیا ہے کہ انہوں نے پاکستان کی جانب سے پیش کردہ دو ہفتوں کی جنگ بندی کی تجویز کو قبول کر لیا ہے۔ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صدر ٹرمپ نے ایران پر بڑے پیمانے پر حملے کرنے کے لیے ڈیڈ لائن مقرر کر رکھی تھی۔

پاکستان کی اس سفارتی کوشش کے تحت ایران آبنائے ہرمز کو دو ہفتوں کے لیے کھولنے کا پابند ہوگا جس کے بدلے میں امریکہ اپنے حملوں کی دھمکی کو عارضی طور پر معطل رکھے گا۔ اس دو ہفتوں کے وقفے کا مقصد ایک وسیع تر معاہدے تک پہنچنا ہے تاکہ جاری کشیدگی کو مستقل طور پر ختم کیا جا سکے۔

ذرائع کے مطابق فریقین کے درمیان براہ راست مذاکرات کے حوالے سے ثالثوں کے ذریعے بات چیت جاری ہے۔ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ان مذاکرات کی قیادت امریکی نائب صدر وینس کریں گے تاہم تاحال اس حوالے سے کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا ہے۔

یہ پیش رفت صدر ٹرمپ کی جانب سے ایران کی تنصیبات، بشمول پلوں، پاور پلانٹس اور تیل و پانی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکی کے بارہ گھنٹوں کے اندر سامنے آئی ہے۔ گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران پاکستان کی بطور مرکزی ثالث کوششوں سے امریکہ اور ایران کے مابین مذاکرات میں تیزی آئی تھی۔

دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے رہنماؤں سمیت سینیٹر لنڈسے گراہم نے صدر ٹرمپ پر زور دیا تھا کہ وہ کسی بھی ایسے معاہدے کو مسترد کر دیں جس میں ایران کی جانب سے بڑی مراعات شامل نہ ہوں۔

تاہم صدر ٹرمپ کی ٹیم کے ارکان بشمول نائب صدر وینس اور خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف نے انہیں مشورہ دیا ہے کہ اگر کوئی قابل عمل معاہدہ ممکن ہو تو اسے قبول کر لیا جائے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -