-Advertisement-

ایران کو دھمکی: ڈیموکریٹس کا ٹرمپ کی برطرفی کا مطالبہ، ریپبلکنز کی خاموشی

تازہ ترین

وزیراعظم شہباز شریف کی ایران اور امریکہ کے وفود کو 10 اپریل کو اسلام آباد آمد کی دعوت

وزیراعظم شہباز شریف نے ایران اور امریکہ کے مابین جنگ بندی کے معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے خطے...
-Advertisement-

واشنگٹن میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کو آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے دی گئی ڈیڈ لائن اور اس کے بعد دو ہفتوں کی جنگ بندی کے اعلان کے درمیان امریکی کانگریس میں ریپبلکن ارکان کی بڑی تعداد خاموش رہی۔ صدر ٹرمپ نے ایران کو منگل کی رات آٹھ بجے تک عالمی تیل کی تجارت کے اہم ترین راستے آبنائے ہرمز کو کھولنے کا الٹی میٹم دیا تھا اور دھمکی دی تھی کہ ایسا نہ ہونے کی صورت میں ایران کے شہری انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا جائے گا۔

ڈیڈ لائن سے بارہ گھنٹے قبل صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک تشویشناک پیغام جاری کرتے ہوئے لکھا کہ آج رات ایک پوری تہذیب ختم ہو جائے گی جو کبھی واپس نہیں آئے گی۔ میں ایسا نہیں چاہتا لیکن غالباً ایسا ہی ہوگا۔

ٹیکساس سے تعلق رکھنے والے ریپبلکن رکن کانگریس نیتھینیل موران نے اس دھمکی پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک پوری تہذیب کی تباہی کی حمایت نہیں کرتے۔ انہوں نے زور دیا کہ ہم ایسے نہیں ہیں اور یہ امریکی اصولوں کے منافی ہے۔ الاسکا سے ریپبلکن سینیٹر لیزا مرکووسکی نے بھی ٹرمپ کے بیان کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسے مذاکرات میں برتری حاصل کرنے کی کوشش کہہ کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے صدر اور ایرانی قیادت پر زور دیا کہ وہ کشیدگی کو کم کریں۔

کیلیفورنیا کے رکن کانگریس کیون کائلی، جنہوں نے حال ہی میں ریپبلکن پارٹی سے علیحدگی اختیار کی ہے، نے بھی ٹرمپ کو خبردار کیا کہ امریکا تہذیبوں کو تباہ نہیں کرتا اور نہ ہی ایسی دھمکیاں مذاکرات کا طریقہ کار ہو سکتی ہیں۔

دوسری جانب ڈیموکریٹک پارٹی کے ارکان نے صدر ٹرمپ کے بیان پر شدید ردعمل دیا ہے۔ سابق اسپیکر نینسی پیلوسی سمیت ستر سے زائد ڈیموکریٹک ارکان نے ٹرمپ کو عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے۔ نینسی پیلوسی کا کہنا تھا کہ ٹرمپ کا عدم توازن پہلے سے کہیں زیادہ خطرناک ہو چکا ہے اور اگر کابینہ پچیسویں ترمیم کا استعمال نہیں کرتی تو ریپبلکنز کو کانگریس کا اجلاس بلا کر اس صورتحال کا خاتمہ کرنا چاہیے۔

ڈیموکریٹک رکن جان لارسن نے ٹرمپ کے خلاف مواخذے کی تحریک بھی پیش کر دی ہے، تاہم کانگریس میں ریپبلکن اکثریت کے باعث اس کی کامیابی کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ کانگریس سے باہر بھی کچھ قدامت پسند حلقے، جو کبھی ٹرمپ کے حمایتی تھے، اب ان کے سخت ناقد بن چکے ہیں جن میں مارجوری ٹیلر گرین اور ایلکس جونز بھی شامل ہیں۔

آٹھ بجے کی ڈیڈ لائن سے دو گھنٹے قبل صدر ٹرمپ نے دو ہفتوں کی جنگ بندی کا اعلان کر دیا، جس کی شرط آبنائے ہرمز کو فوری اور محفوظ طریقے سے کھولنا قرار دی گئی ہے۔ اس اعلان کے ساتھ ہی فی الحال بڑے پیمانے پر حملے کا خطرہ ٹل گیا ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -