لبنان کے پہاڑی علاقے یاہشوش میں پیر موراد کی آخری رسومات کے موقع پر غم اور غصے کی لہر دوڑ گئی۔ پیر موراد کا شمار مسیحی جماعت لبنیز فورسز کے مقامی عہدیداروں میں ہوتا تھا جو حزب اللہ کی سخت مخالف سمجھی جاتی ہے۔ وہ ایسٹر کے روز بیروت کے مشرق میں واقع عین سعادہ میں ایک رہائشی عمارت پر اسرائیلی فضائی حملے میں اپنی اہلیہ فلاویا اور ایک اور خاتون سمیت ہلاک ہو گئے تھے۔
مقتول کی بہن ریمونڈا موواد نے تدفین کے موقع پر کہا کہ ہم دوسروں کی غلطیوں کی سزا بھگتنے پر مجبور نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم اسرائیل اور حزب اللہ دونوں سے بیزار ہو چکے ہیں۔ اس حملے کے بعد لبنان میں فرقہ وارانہ کشیدگی میں اضافے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے کیونکہ اسرائیل اب حزب اللہ کے روایتی گڑھ سے باہر بھی حملے کر رہا ہے۔
لبنانی فوج نے ایک بیان میں واضح کیا کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق ہدف بننے والی عمارت میں کوئی نئے کرایہ دار موجود نہیں تھے۔ فوج نے خبردار کیا ہے کہ حساس سکیورٹی معاملات پر قیاس آرائیاں ملک میں داخلی کشیدگی کا باعث بن سکتی ہیں۔ دوسری جانب اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ وہ بیروت کے مشرق میں ایک دہشت گرد ہدف کو نشانہ بنا رہے تھے اور واقعے کے بعد شہریوں کی ہلاکتوں کی رپورٹس کا جائزہ لے رہے ہیں۔
لبنیز فورسز کے رہنما سمیر جعجع نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیلیوں کا ہدف ایرانی پاسداران انقلاب کی قدس فورس کا ایک رکن تھا، تاہم وہ اس حملے میں ہلاک نہیں ہوا۔ اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے مقامی باشندوں نے کہا کہ وہ مزید خونریزی کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ فادیہ مراد عطاللہ نامی ایک نرس نے کہا کہ جو لوگ جنگ کرنا چاہتے ہیں انہیں ایران جانا چاہیے، ہم جنگ نہیں چاہتے۔
لبنانی صدر جوزف عون نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ کچھ عناصر اپنے مفادات کے لیے فرقہ وارانہ فسادات کے خوف کو ہوا دے رہے ہیں، لیکن وہ کسی صورت ملک کو انتشار کا شکار نہیں ہونے دیں گے۔ پیر موراد کے دوستوں نے ان کی یاد تازہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کا خون کسی اور کی جنگ کی بھینٹ نہیں چڑھنا چاہیے تھا۔ مارچ کے آغاز سے جاری اس تنازع میں اب تک 1500 سے زائد افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔
