امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس نے بدھ کے روز ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کے ان دعووں کو مسترد کر دیا ہے جن میں امریکہ پر جنگ بندی معاہدے کی تین شقوں کی خلاف ورزی کا الزام لگایا گیا تھا۔ وینس نے واضح کیا کہ جنگ بندی کے معاہدے ہمیشہ پیچیدہ ہوتے ہیں اور اس عمل میں معمولی اتار چڑھاؤ فطری بات ہے۔
ایرانی اسپیکر نے الزام عائد کیا تھا کہ امریکہ نے لبنان میں جاری کارروائیوں، ایرانی فضائی حدود میں ڈرون کی مبینہ پرواز اور یورینیم افزودگی کے حق سے انکار کے ذریعے معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے۔ اس پر جے ڈی وینس نے کہا کہ اگر ایرانی فریق کے پاس صرف تین نکات پر تحفظات ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ معاہدے کے دیگر حصوں پر اتفاق رائے موجود ہے۔
لبنان کو جنگ بندی معاہدے میں شامل کرنے کے حوالے سے ایرانی دعووں پر وینس نے کہا کہ یہ ایک فہم کی غلطی ہو سکتی ہے، تاہم امریکہ نے کبھی بھی لبنان کو اس معاہدے کا حصہ بنانے کا وعدہ نہیں کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ معاہدہ صرف ایران، اسرائیل اور خلیجی عرب ریاستوں پر مرکوز تھا اور اس میں لبنان کا ذکر کبھی نہیں کیا گیا تھا۔
نائب صدر نے محمد باقر قالیباف کی انگریزی زبان کی فہم پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ان کے کچھ بیانات مذاکرات کے تناظر میں غیر منطقی محسوس ہوتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ اس بات کی پرواہ نہیں کرتا کہ ایران اپنے کن حقوق کا دعویٰ کرتا ہے، بلکہ ہماری توجہ ان کے عملی اقدامات پر مرکوز ہے۔
بدھ کے روز خلیج فارس میں امریکی اتحادیوں پر ہونے والے حملوں اور ایرانی جزائر پر دھماکوں کی اطلاعات کے حوالے سے وینس نے کہا کہ جنگ بندی کے بعد ایسی صورتحال متوقع ہوتی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ امریکہ بمباری روکنے کے لیے پرعزم ہے اور حالات بہتری کی جانب گامزن ہیں، اگرچہ اس عمل میں کچھ وقت درکار ہوگا۔
وینس نے خبردار کیا کہ اگر ایران لبنان کے معاملے پر مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کا فیصلہ کرتا ہے تو یہ ان کی اپنی غلطی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ نے کبھی لبنان کو جنگ بندی کا حصہ نہیں بنایا اور اگر ایران اس بنیاد پر معاہدہ ختم کرنا چاہتا ہے تو یہ ایک غیر دانشمندانہ فیصلہ ہوگا۔
