جاپان آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال کے پیش نظر اپنے اسٹریٹجک ذخائر سے مزید تیل جاری کرنے پر غور کر رہا ہے۔ کیوڈو نیوز کی رپورٹ کے مطابق جاپان مئی کے مہینے میں مزید 20 دن کی کھپت کے برابر تیل مارکیٹ میں لانے کا ارادہ رکھتا ہے۔
واضح رہے کہ جاپان اپنی تیل کی ضروریات کا 95 فیصد حصہ مشرق وسطیٰ سے درآمد کرتا ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی کے معاہدے کے باوجود آبنائے ہرمز تاحال بڑی حد تک بند ہے جس سے عالمی سطح پر تیل کی ترسیل متاثر ہو رہی ہے۔
وزارت معیشت، تجارت اور صنعت کے حکام کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کی محفوظ نقل و حمل تاحال غیر یقینی ہے، لہذا سپلائی کو مستحکم رکھنے کے لیے اضافی ذخائر کا اجرا ناگزیر دکھائی دیتا ہے۔ جاپان اس سے قبل 16 مارچ سے اپنے ذخائر سے تیل جاری کرنا شروع کر چکا ہے اور اب تک کل 50 دن کی کھپت کے برابر تیل مارکیٹ میں لایا جا چکا ہے۔
ملک کے پاس فی الحال 230 دن کی ضروریات پورا کرنے کے لیے تیل کے ذخائر موجود ہیں۔ تاہم تیل کی قلت کے باعث جاپانی ریفائنریز کی پیداواری صلاحیت 4 اپریل تک کم ہو کر 67.7 فیصد پر آ گئی ہے جو جون کے بعد سے کم ترین سطح ہے۔
توانائی کے اس بحران سے نمٹنے کے لیے جاپان متبادل ذرائع تلاش کر رہا ہے۔ اس سلسلے میں مشرق وسطیٰ کے علاوہ دیگر ممالک سے تیل کی درآمد، پیٹرولیم مصنوعات پر سبسڈی اور کوئلے سے بجلی پیدا کرنے کے عمل کو تیز کیا گیا ہے تاکہ مائع قدرتی گیس پر انحصار کم کیا جا سکے۔
وزارت کی جاری کردہ دستاویز کے مطابق اگرچہ مجموعی طور پر جاپان کے پاس خام تیل اور نیفتھا کے کافی ذخائر موجود ہیں، تاہم بعض علاقوں میں تقسیم کے نظام میں رکاوٹوں کے باعث سپلائی کے عدم توازن کا سامنا ہے۔
