-Advertisement-

پاکستان عالمی استحکام کے لیے کوشاں ہے، شیری رحمان

تازہ ترین

سعودی اور ایرانی وزرائے خارجہ کے درمیان جنگ کے بعد پہلی بار ٹیلی فونک رابطہ

سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان اور ایرانی ہم منصب عباس عراقچی کے درمیان ٹیلی فون...
-Advertisement-

پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیئر رہنما اور سابق سفیر برائے امریکہ شیری رحمان نے امریکہ اور ایران کے مابین جنگ بندی کو پاکستان کی سفارتی کامیابی کا تاریخی سنگ میل قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی قیادت نے عالمی سطح پر پیدا ہونے والے ایک بڑے بحران کو ٹالنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے جس پر دنیا بھر میں پاکستان کی تعریف کی جا رہی ہے۔

ایک نجی نیوز چینل سے گفتگو کرتے ہوئے شیری رحمان نے کہا کہ یہ معاہدہ ایک ایسے نازک وقت میں ہوا جب دنیا شدید انتشار کے دہانے پر کھڑی تھی۔ انہوں نے اس پیش رفت کو دہائیوں میں ہونے والا ایک غیر معمولی واقعہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ پاکستان کی عالمی سطح پر مضبوط اور قابل احترام حیثیت کا عکاس ہے۔

شیری رحمان نے اس کامیابی کا سہرا صدر آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کے سر باندھا۔ انہوں نے کہا کہ ان رہنماؤں کی انتھک کوششوں اور تزویراتی رابطوں نے دنیا کو تباہی کے دہانے سے واپس موڑنے میں فیصلہ کن کردار ادا کیا۔

سینیئر رہنما نے زور دیا کہ مذاکرات کا عمل بلا تعطل جاری رہنا چاہیے اور فریقین کو بنیادی معاملات پر لچک کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ سوشل میڈیا پر منفی پروپیگنڈا یا جنگ بندی کی کسی بھی قسم کی خلاف ورزی اس عمل کو سبوتاژ کر سکتی ہے۔

شیری رحمان نے تجویز پیش کی کہ اس جنگ بندی کی رفتار کو برقرار رکھنے کے لیے اسلام آباد میں مذاکرات کا اگلا دور منعقد کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے امریکہ اور ایران پر زور دیا کہ وہ پابندیوں کے خاتمے، سیکیورٹی ضمانتوں اور طویل مدتی استحکام کے روڈ میپ کے لیے اس موقع سے فائدہ اٹھائیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ پائیدار امن کے لیے مذاکرات کا تسلسل ناگزیر ہے اور فریقین کو باہمی اعتماد سازی کے لیے مزید لچک دکھانی ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے تاریخی مواقع پر ملکی سیاست کو پس پشت ڈال کر قومی مفاد کو ترجیح دی جانی چاہیے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -