-Advertisement-

لبنان پر اسرائیلی حملے علاقائی امن کے لیے خطرہ ہیں: پاکستان

تازہ ترین

نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور ازبک وزیر خارجہ کی مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر تبادلہ خیال

نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے ازبکستان کے وزیر خارجہ بختیار سیدوف کے ساتھ ٹیلی...
-Advertisement-

پاکستان اور اقوام متحدہ نے لبنان پر اسرائیلی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے عالمی برادری سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔ لبنان میں جاری حالیہ شدید بمباری کے نتیجے میں 254 افراد جاں بحق اور 1100 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں جبکہ جنگ بندی کے امکانات کے باوجود اسرائیل کی جانب سے 100 سے زائد فضائی حملے کیے گئے ہیں۔

اسلام آباد میں دفتر خارجہ کے ترجمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ پاکستان لبنان میں جاری اسرائیلی جارحیت کی پرزور مذمت کرتا ہے جس کے نتیجے میں معصوم جانوں کا ضیاع اور بنیادی ڈھانچے کی بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کے اقدامات علاقائی امن اور بین الاقوامی کوششوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں اور یہ کارروائیاں عالمی قوانین اور انسانی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔ پاکستان نے ایک بار پھر لبنان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی حمایت کا اعادہ کیا ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی لبنان بھر میں اسرائیلی حملوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تمام فریقین سے فوری طور پر دشمنی ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ لبنان میں جاری عسکری کارروائیاں خطے میں طویل مدتی امن اور جنگ بندی کی کوششوں کے لیے شدید خطرہ بن سکتی ہیں۔ ان کے مطابق حملوں میں بچوں سمیت سیکڑوں شہری ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں جبکہ شہری تنصیبات کو بھی بھاری نقصان پہنچا ہے۔

رپورٹس کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے اعلان کے چند گھنٹوں بعد ہی اسرائیل نے لبنان پر تاریخ کے شدید ترین حملے کیے جن میں صرف 10 منٹ کے دوران 100 سے زائد فضائی حملے کیے گئے۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا کہنا ہے کہ لبنان جنگ بندی معاہدے کا حصہ نہیں ہے جبکہ اسرائیل نے بھی واضح کیا ہے کہ ایران کے ساتھ طے پانے والی جنگ بندی کا اطلاق لبنان پر نہیں ہوتا۔

اس صورتحال پر وزیراعظم شہباز شریف پہلے ہی اپنے بیان میں لبنان کا خصوصی ذکر کر چکے ہیں جبکہ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے بھی ملک میں جنگ بندی کی سنگین خلاف ورزیوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -