-Advertisement-

سعودی اور ایرانی وزرائے خارجہ کا ٹیلی فونک رابطہ، خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال

تازہ ترین

چیمپئنز لیگ: ایٹلیٹیکو میڈرڈ نے 10 کھلاڑیوں پر مشتمل بارسلونا کو شکست دے دی

چیمپئنز لیگ کوارٹر فائنل کے پہلے مرحلے میں ایٹلیٹیکو میڈرڈ نے بارسلونا کو دو صفر سے شکست دے کر...
-Advertisement-

سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان اور ان کے ایرانی ہم منصب عباس عراقچی کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا ہے۔ سعودی وزارت خارجہ کے مطابق یہ رابطہ تہران کی جانب سے خلیجی ممالک پر حملوں کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان پہلا سرکاری رابطہ ہے۔ گفتگو کے دوران خطے میں کشیدگی کم کرنے اور امن و استحکام کی بحالی کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ یہ پیش رفت ایران اور امریکہ کے درمیان دو ہفتہ وار جنگ بندی کے اعلان کے ایک روز بعد سامنے آئی ہے۔

اسی دوران نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بھی سعودی ہم منصب سے ٹیلی فون پر گفتگو کی۔ دونوں رہنماؤں نے لبنان میں جنگ بندی کی خلاف ورزیوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور دیرپا امن کے لیے جنگ بندی پر مکمل عمل درآمد پر زور دیا۔ اسحاق ڈار نے پاکستان کی امن کوششوں کے لیے سعودی عرب کی حمایت کو سراہا اور دونوں رہنماؤں نے رابطے برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے بدھ کی صبح اعلان کیا تھا کہ ایران اور امریکہ اپنے اتحادیوں سمیت فوری جنگ بندی پر متفق ہو گئے ہیں۔ وزیراعظم نے دونوں ممالک کے وفود کو حتمی معاہدے کے لیے 10 اپریل 2026 کو اسلام آباد مدعو کیا ہے۔ اس سلسلے میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے مذاکرات کے لیے فول پروف سیکیورٹی یقینی بنانے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کی ڈیڈ لائن ختم ہونے سے دو گھنٹے قبل دو ہفتہ وار جنگ بندی پر اتفاق کیا۔ ایران نے پاکستان کی قیادت اور عوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اس پیش رفت کو اپنی کامیابی قرار دیا ہے۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق نائب صدر جے ڈی وانس مذاکراتی ٹیم کی قیادت کریں گے جبکہ ایرانی وفد کی نمائندگی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی کریں گے۔ مذاکرات کا باقاعدہ آغاز ہفتے کے روز اسلام آباد میں ہوگا۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -