-Advertisement-

قدیم ترین آکٹوپس کا فوسل دراصل کوئی اور سمندری مخلوق نکلا، سائنسدانوں کا انکشاف

تازہ ترین

لبنان کی اسرائیلی جارحیت کے خاتمے کے لیے پاکستان سے مدد کی اپیل

لبنان نے اسرائیلی جارحیت کے فوری خاتمے کے لیے پاکستان سے تعاون کی درخواست کر دی ہے۔ وزیراعظم شہباز...
-Advertisement-

سائنس دانوں نے ایک اہم تحقیق کے بعد انکشاف کیا ہے کہ دنیا کا قدیم ترین آکٹوپس سمجھا جانے والا فوسل دراصل آکٹوپس کا نہیں بلکہ ایک مختلف بحری مخلوق کا ہے۔ یونیورسٹی آف ریڈنگ انگلینڈ کے شعبہ حیوانیات کے پروفیسر اور تحقیق کے سربراہ تھامس کلیمنٹس کا کہنا ہے کہ گنیز ورلڈ ریکارڈز میں جس فوسل کو قدیم ترین آکٹوپس کے طور پر درج کیا گیا تھا، وہ حقیقت میں آکٹوپس ہے ہی نہیں۔

تحقیق کے مطابق یہ فوسل، جسے پولسیپیا میزننسس کہا جاتا ہے، دراصل ناٹیلس نامی سیفالوپوڈ کے خاندان سے تعلق رکھنے والی ایک مخلوق کا ہے۔ یہ مخلوق اپنے خول اور ٹینٹیکلز کی بدولت آکٹوپس سے مختلف ہے۔ یہ فوسل شکاگو کے قریب الینوائے کے علاقے میزن کریک سے دریافت ہوا تھا، جو ڈائناسور کے دور سے بھی پہلے کے فوسلز کے لیے مشہور ہے۔

سن 2000 میں ماہرینِ قدیم حیات نے اسے آکٹوپس قرار دیا تھا جس سے ارتقائی تاریخ کے حوالے سے نظریات بدل گئے تھے، تاہم اس کے بعد سے سائنس دانوں کو اس کے آکٹوپس ہونے پر شکوک تھے۔ تھامس کلیمنٹس اور ان کی ٹیم نے جدید ترین سنکروٹرون ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے اس فوسل کا گہرائی سے جائزہ لیا۔

تجزیے کے دوران فوسل میں دانتوں کی ایک ایسی قطار دریافت ہوئی جس میں 11 دانت موجود تھے، جبکہ آکٹوپس کے دانتوں کی تعداد سات یا نو ہوتی ہے۔ دانتوں کی یہ تعداد اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ مخلوق آکٹوپس نہیں بلکہ ناٹیلس کی ایک قسم ہے جس نے فاسل بننے کے عمل کے دوران اپنا خول کھو دیا تھا۔

اس نئی تحقیق کے منظر عام پر آنے کے بعد گنیز ورلڈ ریکارڈز نے پولسیپیا میزننسس کا نام قدیم ترین آکٹوپس کی فہرست سے خارج کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ گنیز ورلڈ ریکارڈز کے مینیجنگ ایڈیٹر ایڈم ملورڈ نے اس پیش رفت کو ایک دلچسپ دریافت قرار دیا ہے۔

یہ فوسل شکاگو کے فیلڈ میوزیم کی ملکیت ہے، جہاں اسے اب دنیا کے قدیم ترین سافٹ ٹشو والے ناٹیلس فوسل کے طور پر اہمیت حاصل ہو گئی ہے۔ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے پرانے فوسلز کا دوبارہ جائزہ لینے سے ماضی کے کئی اہم سائنسی رازوں سے پردہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ یہ نئی تحقیق رائل سوسائٹی بی کے جریدے میں شائع کی گئی ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -