امریکی سینیٹر ٹم کین نے خبردار کیا ہے کہ نیٹو سے انخلا کی کوئی بھی کوشش قومی خودکشی کے مترادف ہوگی۔ ٹائم میگزین میں شائع ہونے والے اپنے مضمون میں ڈیموکریٹک سینیٹر نے واضح کیا ہے کہ اگرچہ قانونی رکاوٹیں کسی بھی صدر کو یکطرفہ طور پر اتحاد سے نکلنے سے روکتی ہیں، تاہم ایسی بیان بازی عالمی سلامتی کے لیے خطرناک ہے۔
ٹم کین نے یاد دلایا کہ انہوں نے موجودہ وزیر خارجہ مارکو روبیو کے ساتھ مل کر 2024 میں ایک دو فریقی قانون منظور کروایا تھا، جس کے تحت امریکی صدر کانگریس کی منظوری کے بغیر نیٹو سے علیحدگی اختیار نہیں کر سکتے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ قانون اس طویل مدتی اتفاق رائے کا عکاس ہے جو نیٹو کی اہمیت پر امریکی سیاست میں پایا جاتا ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیٹو پر تنقید اور ایران تنازع میں اتحاد کے کردار پر تحفظات کے حوالے سے سینیٹر کین نے کہا کہ ایسی باتیں امریکہ اور دنیا کو غیر محفوظ بنا رہی ہیں۔ انہوں نے ایران کے خلاف کارروائی کو کانگریس اور اتحادیوں کی مشاورت کے بغیر لیا گیا یکطرفہ فیصلہ قرار دیا اور کہا کہ اسی وجہ سے نیٹو رکن ممالک نے اس تنازع سے دوری اختیار کر رکھی ہے۔
رپورٹ میں نیٹو کی کارکردگی میں بہتری کا ذکر کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ اب تمام 32 رکن ممالک اپنی جی ڈی پی کا کم از کم دو فیصد دفاع پر خرچ کر رہے ہیں، جبکہ اگلے ایک دہائی کے لیے پانچ فیصد کا نیا ہدف بھی مقرر کیا گیا ہے۔ 2011 میں صرف پانچ ممالک اس معیار پر پورا اترتے تھے۔
سینیٹر کین نے خبردار کیا کہ نیٹو کو کمزور کرنے سے روس اور چین جیسے حریفوں کے لیے خلا پیدا ہوگا۔ انہوں نے نیٹو کو جمہوریت، امن اور عالمی اقتصادی استحکام کے لیے ایک ناگزیر قوت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسے توڑنے کی کوشش ایک المناک غلطی ہوگی جو امریکی قومی مفادات کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہے۔
