-Advertisement-

لبنان میں شدید بمباری کے بعد اسرائیل کی براہِ راست مذاکرات کی پیشکش

تازہ ترین

اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے مابین مذاکرات، وفاقی وزیر داخلہ کی جانب سے فول پروف سیکیورٹی کی یقین دہانی

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے پاکستان میں ہونے والے اعلیٰ سطحی مذاکرات کے تناظر میں غیر ملکی معززین...
-Advertisement-

اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے بیروت کے ساتھ براہ راست مذاکرات شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ پیش رفت لبنان پر اسرائیل کی جانب سے شدید ترین بمباری کے ایک روز بعد سامنے آئی ہے جس میں دو سو پچاس سے زائد افراد ہلاک ہوئے اور ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کرائی گئی امریکا ایران جنگ بندی کے عمل کو خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کی شب ایران کے ساتھ چھ ہفتوں سے جاری تنازع کے خاتمے کے لیے جنگ بندی کا اعلان کیا تھا۔ تاہم ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی اب بھی برقرار ہے جس کے باعث عالمی توانائی کی سپلائی شدید متاثر ہے۔ جنگ بندی کے پہلے چوبیس گھنٹوں کے دوران اس اہم آبی گزرگاہ سے صرف چھ جہاز گزر سکے، جبکہ جنگ سے قبل یہاں سے روزانہ ایک سو چالیس جہاز گزرتے تھے۔

نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ انہوں نے کابینہ کو ہدایت کی ہے کہ لبنان کے ساتھ جلد از جلد براہ راست مذاکرات کا آغاز کیا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان مذاکرات کا بنیادی مقصد حزب اللہ کو غیر مسلح کرنا اور اسرائیل و لبنان کے درمیان پرامن تعلقات کا قیام ہے۔

دوسری جانب لبنانی صدر جوزف عون نے تصدیق کی ہے کہ وہ سفارتی سطح پر کام کر رہے ہیں جسے عالمی برادری کی جانب سے مثبت انداز میں دیکھا جا رہا ہے۔ ایک سینئر لبنانی عہدیدار نے بتایا کہ لبنان امریکا کو اس معاہدے میں ثالث اور ضامن کے طور پر شامل کرنا چاہتا ہے۔

پاکستان، جس نے امریکا اور ایران کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کیا تھا، اب لبنان اور یمن میں بھی جنگ بندی کے لیے متحرک ہے۔ پاکستانی حکام اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کے پہلے دور کی تیاریوں میں مصروف ہیں اور وفاقی دارالحکومت میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔

امریکا کا موقف ہے کہ لبنان میں جاری لڑائی ٹرمپ کی جنگ بندی معاہدے کا حصہ نہیں ہے، تاہم ایران اور پاکستان کا اصرار ہے کہ یہ معاہدہ لبنان پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ برطانیہ اور فرانس سمیت کئی ممالک نے بھی اس جنگ بندی کو لبنان تک وسیع کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے واضح کیا ہے کہ لبنان اور ایران کے دیگر علاقائی اتحادی کسی بھی جنگ بندی کا اٹوٹ حصہ ہیں۔ اس تمام تر صورتحال کے باوجود اسرائیل کی جانب سے بیروت کے جنوبی مضافات اور دیگر علاقوں پر بمباری کا سلسلہ جمعرات کو بھی جاری رہا، جبکہ حزب اللہ نے بھی اسرائیل کے خلاف کم از کم بیس فوجی کارروائیوں کا دعویٰ کیا ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -