-Advertisement-

لبنان اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کیلئے واشنگٹن میں ہنگامی مذاکرات کا فیصلہ

تازہ ترین

لاس اینجلس اولمپکس 2028 کے ٹکٹوں کی عالمی فروخت کا آغاز

لاس اینجلس اولمپکس 2028 کے ٹکٹوں کی عالمی فروخت کا آغاز جمعرات کے روز کر دیا گیا ہے۔ منتظمین...
-Advertisement-

واشنگٹن میں لبنان میں جنگ بندی کے قیام کے لیے ہنگامی بنیادوں پر سہ فریقی سفارتی مذاکرات کا اہتمام کیا جا رہا ہے۔ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب اسرائیلی فوج کی جانب سے ایرانی حمایت یافتہ حزب اللہ کے ٹھکانوں پر شدید فضائی حملے جاری ہیں، جس کے نتیجے میں لبنانی شہریوں کی ہلاکتوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ کے ذرائع کے مطابق، وزیر خارجہ مارکو روبیو کے دفتر کی زیر نگرانی ان مذاکرات کی قیادت لبنان میں امریکی سفیر مشیل عیسیٰ کریں گے۔ اجلاس میں لبنان کی سفیر ندا حمادہ معوض اور اسرائیل کے سفیر یحییٰ لیٹر شرکت کریں گے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس نشست کا بنیادی مقصد فریقین کے درمیان براہ راست بات چیت کا راستہ ہموار کرنا ہے۔

لبنان اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی سفارت کاری کی راہ میں بڑی رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی، جن کی اسلام آباد میں متوقع آمد کے حوالے سے بھی اطلاعات ہیں، نے امریکہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کو سفارتی کوششیں سبوتاژ کرنے کی کھلی چھوٹ دے رہا ہے۔

اس سے قبل جمعرات کو اعلان کردہ جنگ بندی کے اطلاق کے حوالے سے شدید ابہام پیدا ہوا تھا۔ وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اس جنگ بندی کے دائرہ کار میں لبنان کو شامل قرار دیا تھا، جبکہ وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار نے بھی تصدیق کی تھی کہ اسرائیل پاکستان کی ثالثی میں ہونے والے معاہدے کے شرائط پر متفق ہے۔

تاہم، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے درمیان ٹیلی فونک رابطے کے بعد امریکی موقف میں تبدیلی دیکھی گئی۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے اسے ایک جائز غلط فہمی قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ ایران نے یہ سمجھنے میں غلطی کی کہ جنگ بندی میں ان کی پراکسی فورسز بھی شامل ہوں گی۔

دوسری جانب نیتن یاہو نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ انہوں نے لبنانی حکومت کی مذاکرات کی درخواست قبول کر لی ہے، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ لبنان میں فی الحال کوئی جنگ بندی نہیں ہے۔

امریکی انتظامیہ میں نائب صدر جے ڈی وینس ایران کے ساتھ سفارتی رابطوں میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔ سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ ایرانی حکام اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کے مقابلے میں وینس کے ساتھ بات چیت کو زیادہ ترجیح دے رہے ہیں کیونکہ انہیں سابقہ امریکی ایلچیوں پر اعتماد کا فقدان ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -