-Advertisement-

یوکرین میں آرتھوڈوکس ایسٹر کے موقع پر 32 گھنٹے کی جنگ بندی کا اعلان

تازہ ترین

لاس اینجلس اولمپکس 2028 کے ٹکٹوں کی عالمی فروخت کا آغاز

لاس اینجلس اولمپکس 2028 کے ٹکٹوں کی عالمی فروخت کا آغاز جمعرات کے روز کر دیا گیا ہے۔ منتظمین...
-Advertisement-

روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے آرتھوڈوکس ایسٹر کے تہوار کے موقع پر یوکرین میں 32 گھنٹے کی جنگ بندی کا اعلان کر دیا ہے۔ کریملن کی جانب سے جاری کردہ حکم نامے کے مطابق روسی افواج ہفتے کی سہ پہر چار بجے سے اتوار کی رات تک کسی بھی قسم کی کارروائی سے گریز کریں گی۔

یہ اعلان یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی کی جانب سے تہوار کے دوران دشمنی میں وقفے کی اپیل کے بعد سامنے آیا ہے۔ زیلنسکی نے تجویز دی تھی کہ دونوں فریقین اس دوران ایک دوسرے کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ نہ بنائیں۔ اس پیشکش کے لیے امریکا نے ثالث کا کردار ادا کیا تھا، جو ماسکو اور کیف کے درمیان رابطوں میں سہولت کاری کر رہا ہے۔

کریملن کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ روسی فوج کو تمام محاذوں پر جارحیت روکنے کے احکامات جاری کر دیے گئے ہیں تاہم ساتھ ہی یہ تنبیہ بھی کی گئی ہے کہ روسی دستے کسی بھی ممکنہ اشتعال انگیزی یا جارحانہ کارروائی کا جواب دینے کے لیے تیار رہیں۔ ماسکو نے امید ظاہر کی ہے کہ یوکرین بھی اس اقدام کی پیروی کرے گا۔

کیف کی جانب سے پیوٹن کے اس اعلان پر فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ ماضی میں بھی ایسی جنگ بندیوں کی کوششیں بارہا ناکام رہی ہیں اور گزشتہ برس ایسٹر پر ہونے والی جنگ بندی کے دوران بھی دونوں فریقین نے ایک دوسرے پر معاہدے کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کیے تھے۔

روس اس سے قبل امریکا اور یوکرین کی جانب سے 30 روزہ غیر مشروط جنگ بندی کی تجویز کو مسترد کر چکا ہے اور ایک جامع تصفیے پر زور دیتا رہا ہے۔ امریکا کی زیر قیادت ہونے والے مذاکرات تاحال کسی حتمی نتیجے تک نہیں پہنچ سکے ہیں، جبکہ واشنگٹن کی توجہ مشرق وسطیٰ کے تنازع پر مرکوز ہونے کے باعث یوکرین میں جاری جنگ تعطل کا شکار ہے اور تقریباً 800 میل طویل فرنٹ لائن پر دونوں ممالک کی افواج آمنے سامنے ہیں۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -