-Advertisement-

ایران، امریکا جنگ بندی کے باوجود آبنائے ہرمز میں جہاز رانی معمول پر نہ آ سکی

تازہ ترین

محکمہ موسمیات کی ملک کے بیشتر حصوں میں موسم خشک رہنے کی پیش گوئی

محکمہ موسمیات نے ملک بھر میں اگلے چوبیس گھنٹوں کے دوران موسم زیادہ تر خشک رہنے کی پیش گوئی...
-Advertisement-

امریکہ اور ایران کے مابین جنگ بندی کے معاہدے کے ابتدائی دو دنوں کے دوران آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کی تعداد میں انتہائی کمی دیکھی گئی ہے۔ میری ٹائم ٹرانزٹ ڈیٹا کے مطابق یہ تعداد جنگ سے قبل کے معمول کے ٹریفک کے مقابلے میں نہ ہونے کے برابر ہے۔

صدر ٹرمپ کی جانب سے منگل کی شب اعلان کردہ معاہدے کے تحت ایران نے اس اہم آبی گزرگاہ سے جہازوں کی نقل و حمل کی اجازت دینی تھی، جہاں سے دنیا بھر کی 20 فیصد تیل کی سپلائی گزرتی ہے۔ تاہم بدھ کے روز ایران کی عسکری تنظیم سے منسلک خبر رساں ادارے نے دعویٰ کیا کہ لبنان میں حزب اللہ پر اسرائیل کے حملوں کے جواب میں آبنائے سے ٹریفک معطل رہے گی۔

وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرن لیویٹ نے ایران کے اس دعوے کو مسترد کر دیا کہ لبنان کا تنازعہ جنگ بندی معاہدے کا حصہ ہے۔ نائب صدر جے ڈی وینس نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اسے معاہدے کی شرائط کے حوالے سے ایک جائز غلط فہمی قرار دیا۔ کیرن لیویٹ نے زور دیا کہ صدر کی توقع اور مطالبہ ہے کہ آبنائے ہرمز کو فوری طور پر محفوظ طریقے سے کھولا جائے۔

میری ٹریفک کے اعداد و شمار کے مطابق بدھ اور جمعرات کو صرف 12 جہاز اس گزرگاہ سے گزرے، جو جنگ سے قبل کی صورتحال کے مقابلے میں ایک معمولی حصہ ہے۔ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے تجارت و ترقی کے مطابق 28 فروری کو جنگ کے آغاز سے قبل یکم فروری سے 27 فروری تک یہاں سے گزرنے والے جہازوں کی یومیہ اوسط 129 تھی۔

جنگ بندی کے بعد گزرنے والے جہازوں میں سے صرف تین تیل یا کیمیکل ٹینکر تھے، جو جمعرات کو گزرے۔ یہ تینوں جہاز ایرانی تیل کی ترسیل پر امریکی پابندیوں کی زد میں ہیں۔ بقیہ تمام کارگو جہاز تھے۔ عالمی تجارتی تجزیاتی فرم کیپلر کے لیڈ آئل تجزیہ کار میٹ اسمتھ کے مطابق دنیا بھر کا تقریباً ایک تہائی خام تیل اسی راستے سے گزرتا ہے، تاہم اب یہ نقل و حمل ایک دھارے کی طرح سست ہو کر رہ گئی ہے۔

جنگ کے آغاز والے دن یعنی 28 فروری کو 74 جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے تھے، جس کے بعد مارچ میں یہ تعداد گر کر یومیہ اوسطاً چھ جہازوں تک محدود ہو گئی تھی۔ رواں ماہ کے دوران اس میں معمولی بہتری دیکھی گئی ہے اور جمعرات کی شام تک یومیہ اوسط 10 جہاز رہی۔ بحری نقل و حمل کی نگرانی میں مشکلات کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ کئی جہاز اپنے اے آئی ایس ٹرانسپونڈرز کو عارضی طور پر بند یا تبدیل کر دیتے ہیں، جس سے ان کی درست لوکیشن کا تعین کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -