-Advertisement-

پاکستان میں مذاکرات سے قبل امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی معاہدے میں کشیدگی

تازہ ترین

ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران پر آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل میں رکاوٹیں ڈالنے کا الزام

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل میں رکاوٹیں ڈالنے اور دو ہفتہ...
-Advertisement-

امریکہ اور ایران کے درمیان دو ہفتوں پر محیط نازک جنگ بندی معاہدہ شدید دباؤ کا شکار ہو گیا ہے۔ یہ پیش رفت پاکستان میں دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات سے ایک روز قبل سامنے آئی ہے۔ واشنگٹن نے تہران پر آبنائے ہرمز سے متعلق وعدوں کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا ہے، جبکہ ایران نے لبنان پر اسرائیل کے حالیہ حملوں کو جنگ بندی کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

آبنائے ہرمز پر ایرانی ناکہ بندی بدستور برقرار ہے جس کے باعث عالمی توانائی کی سپلائی شدید تعطل کا شکار ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنے بیان میں کہا کہ ایران تیل کی ترسیل کی اجازت دینے میں اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کر رہا جو کہ معاہدے کی روح کے منافی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تیل کی ترسیل دوبارہ شروع ہونی چاہیے تاہم انہوں نے کسی ممکنہ امریکی کارروائی کی تفصیلات نہیں بتائیں۔

جنگ بندی کے پہلے 24 گھنٹوں کے دوران آبنائے ہرمز سے صرف ایک آئل ٹینکر اور پانچ خشک کارگو جہاز گزر سکے۔ جنگ سے قبل اس اہم تجارتی راستے سے روزانہ 140 جہاز گزرتے تھے جو عالمی سطح پر تیل اور مائع قدرتی گیس کی فراہمی کا پانچواں حصہ ہے۔

اسرائیلی فوج نے جمعہ کے روز دعویٰ کیا کہ انہوں نے لبنان میں ان دس لانچرز کو نشانہ بنایا ہے جہاں سے شمالی اسرائیل کی جانب راکٹ فائر کیے گئے تھے۔ دوسری جانب حزب اللہ نے حیفہ شہر میں اسرائیلی عسکری تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ اسرائیل اور امریکہ کا موقف ہے کہ موجودہ جنگ بندی کا اطلاق لبنان پر نہیں ہوتا، تاہم ایران اور پاکستان کا اصرار ہے کہ لبنان اس معاہدے کا لازمی حصہ ہے۔

ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف، جو امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے ساتھ مذاکرات کے لیے وفد کی قیادت کریں گے، نے واضح کیا کہ لبنان اور خطے میں ایران کے اتحادی کسی بھی جنگ بندی کا اٹوٹ حصہ ہیں۔ دریں اثنا، ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے دھمکی دی ہے کہ ایران اپنے ملک پر حملوں کا بدلہ لے گا اور ہر نقصان کا ازالہ کیا جائے گا۔

پاکستان میں حکام ہفتے کے روز ہونے والے مذاکرات کی تیاریوں میں مصروف ہیں جس کا مقصد 28 فروری سے شروع ہونے والے تنازع کو حل کرنا ہے۔ ایران نے دس نکاتی تجاویز پیش کی ہیں جن میں آبنائے ہرمز کا کنٹرول، جوہری افزودگی کا حق، پابندیوں کا خاتمہ اور حزب اللہ کے خلاف جنگ بندی شامل ہے۔

اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے کہا ہے کہ وہ جلد مذاکرات شروع کرنے کے حق میں ہیں جن کا محور حزب اللہ کو غیر مسلح کرنا ہوگا۔ تاہم حزب اللہ کے رکن علی فیاض نے اسرائیل کے ساتھ براہ راست مذاکرات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ لبنانی حکومت کو مزید اقدامات سے قبل جنگ بندی کا مطالبہ کرنا چاہیے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -