-Advertisement-

ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران پر آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل میں رکاوٹیں ڈالنے کا الزام

تازہ ترین

امریکہ کی تین بڑی چینی ٹیلی کام کمپنیوں پر پابندی عائد کرنے کی تیاری

امریکی فیڈرل کمیونیکیشن کمیشن نے چین کی تین بڑی ٹیلی کام کمپنیوں کو امریکی ڈیٹا سینٹرز چلانے اور امریکی...
-Advertisement-

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل میں رکاوٹیں ڈالنے اور دو ہفتہ وار جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کا سنگین الزام عائد کیا ہے۔

واشنگٹن سے موصولہ اطلاعات کے مطابق سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر جاری کردہ پیغامات میں صدر ٹرمپ نے ایران کو متنبہ کیا کہ وہ اہم آبی گزرگاہ سے گزرنے والے جہازوں پر کسی بھی قسم کا ٹیکس یا محصول عائد کرنے سے باز رہے۔ ٹرمپ نے موقف اختیار کیا کہ ایران کی جانب سے تیل کی نقل و حمل کے حوالے سے کارکردگی انتہائی مایوس کن اور غیر منصفانہ ہے۔

میری ٹائم ٹریکنگ ڈیٹا کے مطابق منگل کے روز جنگ بندی کے اعلان اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے باوجود اب تک صرف دس جہاز ہی اس گزرگاہ سے گزر سکے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ یہ موجودہ معاہدے کی شرائط کے منافی ہے۔ انہوں نے دھمکی دی کہ اگر ایران نے ٹینکرز سے فیس وصول کرنے کا سلسلہ بند نہ کیا تو اس کے نتائج سنگین ہوں گے۔

ٹرمپ کا لہجہ اس وقت تبدیل ہوتا دکھائی دیا جب انہوں نے یہ کہا کہ ایران کی مدد کے بغیر بھی تیل کی ترسیل جلد بحال ہو جائے گی۔ اس سے قبل این بی سی نیوز کے ساتھ انٹرویو میں امریکی صدر نے ایران کے ساتھ امن معاہدے پر پرامید ہونے کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایرانی قیادت نجی سطح پر زیادہ معقول ہے تاہم معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں ایران کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔

دوسری جانب وائٹ ہاؤس کی ڈپٹی پریس سیکریٹری اینا کیلی نے تصدیق کی ہے کہ صدر ٹرمپ مشرق وسطیٰ میں دیرپا قیام امن کے لیے پرعزم ہیں۔ اسی سلسلے میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس ہفتے کے روز پاکستان میں ایرانی حکام سے مذاکرات کریں گے جس کے لیے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر بھی اسلام آباد پہنچ رہے ہیں۔

ادھر اسرائیل اور لبنان کے مابین کشیدگی کے تناظر میں امریکی محکمہ خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ اگلے ہفتے واشنگٹن میں دونوں ممالک کے مابین مذاکرات ہوں گے۔ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے بھی امریکی صدر سے ٹیلی فونک رابطے میں لبنان کے خلاف کارروائیاں محدود کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ تاہم بدھ کے روز لبنان پر ہونے والے شدید اسرائیلی حملوں نے واشنگٹن اور تہران کے مابین قائم نازک جنگ بندی کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -