ابوظہبی میں برطانوی وزیراعظم سر کیئر سٹارمر اور متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید آل نہیان کے درمیان اہم ملاقات ہوئی ہے جس میں خطے کی موجودہ صورتحال اور عالمی سلامتی کے امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات کے دوران ایران کے ساتھ کشیدگی، خطے میں جاری بحران اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی سکیورٹی کے معاملات سرِفہرست رہے۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ عالمی توانائی کی ترسیل اور بین الاقوامی تجارت کے تسلسل کے لیے سمندری راستوں کی حفاظت ناگزیر ہے۔
متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید آل نہیان نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ خطے کے تمام تنازعات کا حل صرف سفارت کاری، باہمی مذاکرات اور پرامن طریقوں سے ہی ممکن ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ عسکری کشیدگی کے بجائے سیاسی حل ہی پائیدار امن کی ضمانت ہے۔
برطانوی وزیراعظم سر کیئر سٹارمر نے متحدہ عرب امارات کی سلامتی، خودمختاری اور استحکام کے لیے برطانیہ کی مکمل حمایت کا یقین دلایا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک علاقائی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے قریبی تعاون جاری رکھیں گے تاکہ کسی بھی قسم کے بحران کو مزید بڑھنے سے روکا جا سکے۔
ملاقات میں فریقین نے جنگ بندی کے معاہدوں کو مستحکم کرنے اور عالمی منڈیوں میں توانائی کے بہاؤ میں خلل کو روکنے کے لیے مربوط حکمت عملی اپنانے پر زور دیا۔
برطانوی ذرائع کے مطابق سر کیئر سٹارمر کا یہ دورہ خلیجی ممالک کے ساتھ وسیع تر مشاورت کا حصہ ہے جس کا مقصد کشیدگی کم کرنے اور اتحادی ممالک کے درمیان بہتر ہم آہنگی پیدا کرنا ہے۔
یہ دورہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ابوظہبی اور لندن سکیورٹی، تجارت اور سفارتی سطح پر ایک دوسرے کے ساتھ گہرا تعاون کر رہے ہیں۔ موجودہ حساس جغرافیائی سیاسی صورتحال میں متحدہ عرب امارات ایک اہم سفارتی مرکز کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے۔
