-Advertisement-

آرٹیمس ٹو مشن: خلابازوں کی چاند سے زمین واپسی، بحر الکاہل میں لینڈنگ متوقع

تازہ ترین

مغربی میکسیکو میں اجتماعی قبروں سے 11 افراد کی باقیات برآمد

میکسیکو کے مغربی علاقے میں حکام نے کم از کم 11 افراد کی باقیات دریافت کی ہیں جنہیں خفیہ...
-Advertisement-

نصف صدی سے زائد عرصے میں انسانوں کو چاند تک لے جانے والے پہلے خلائی مشن پر مامور آرٹیمس ٹو کے چاروں خلاباز جمعہ کے روز اپنے اورین خلائی جہاز میں سوار ہو کر زمین کی جانب واپس لوٹ رہے ہیں۔ یہ خلائی جہاز جنوبی کیلیفورنیا کے ساحل کے قریب بحرالکاہل میں اترنے کی تیاری کر رہا ہے۔

ناسا کے اس دس روزہ تاریخی مشن کا اختتامی مرحلہ اورین کیپسول کے سروس ماڈیول سے الگ ہونے کے بعد شروع ہوگا۔ اس کے بعد خلائی جہاز زمین کے کرہ ہوائی میں داخل ہوگا، جس کے دوران چھ منٹ تک ریڈیو رابطہ منقطع رہے گا، جس کے بعد پیراشوٹ کی مدد سے کیپسول سمندر میں اترے گا۔

اگر سب کچھ منصوبے کے مطابق رہا تو امریکی خلاباز ریڈ وائز مین، وکٹر گلوور، کرسٹینا کوچ اور کینیڈین خلاباز جیریمی ہینسن اپنے انٹیگریٹی نامی کیپسول میں سان ڈیاگو کے ساحل کے قریب مقامی وقت کے مطابق رات آٹھ بجے کے بعد بحفاظت سمندر میں اتر جائیں گے۔

یہ چار رکنی ٹیم یکم اپریل کو فلوریڈا کے کیپ کینیورل سے ناسا کے اسپیس لانچ سسٹم راکٹ کے ذریعے روانہ ہوئی تھی۔ یہ مشن اپالو پروگرام کے بعد چاند کے قریب جانے والا پہلا انسانی سفر ہے، جس کے دوران یہ خلاباز انسانی تاریخ میں زمین سے سب سے زیادہ دور جانے والے انسان بن گئے ہیں۔

اس مشن میں وکٹر گلوور پہلے سیاہ فام، کرسٹینا کوچ پہلی خاتون اور جیریمی ہینسن پہلے غیر امریکی شہری ہیں جنہوں نے قمری مشن میں حصہ لیا ہے۔ اس سفر کا بنیادی مقصد چاند پر طویل مدتی موجودگی قائم کرنا ہے تاکہ مستقبل میں مریخ کی جانب انسانی سفر کی راہ ہموار کی جا سکے۔

اس واپسی کے دوران اورین خلائی جہاز کے ہیٹ شیلڈ کا ایک اہم امتحان بھی ہوگا۔ دو سال قبل کے آزمائشی مشن میں ہیٹ شیلڈ کو غیر متوقع نقصان پہنچا تھا، جس کے پیش نظر ناسا کے انجینئروں نے اس بار داخلے کے زاویے میں تبدیلی کی ہے تاکہ درجہ حرارت کو قابو میں رکھا جا سکے۔

خلائی جہاز کے زمین کے کرہ ہوائی میں داخلے کے وقت اس کی رفتار 25 ہزار میل فی گھنٹہ ہوگی اور بیرونی درجہ حرارت 5 ہزار ڈگری فارن ہائیٹ تک پہنچنے کا امکان ہے۔

مشن کے آخری مراحل میں جیٹ تھرسٹرز کے ذریعے درست سمت کا تعین کیا جائے گا۔ کیپسول کے فضا میں داخلے کے بعد 15 منٹ کے اندر پیراشوٹ کھل جائیں گے۔ سمندر میں اترنے کے بعد ریکوری ٹیمیں تقریباً ایک گھنٹے میں کیپسول کو بحری جہاز پر منتقل کریں گی اور خلابازوں کو باہر نکالا جائے گا۔

اس مشن کے دوران خلابازوں نے زمین سے 2 لاکھ 52 ہزار 756 میل کی دوری طے کی، جو کہ 1970 میں اپالو 13 کے خلابازوں کے قائم کردہ 2 لاکھ 48 ہزار میل کے سابقہ ریکارڈ سے زیادہ ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -