-Advertisement-

ایران جنگ کے باعث لبنان کو شدید غذائی بحران کا سامنا، عالمی ادارہ خوراک کی وارننگ

تازہ ترین

امریکی نائب صدر جے ڈی وانس پاکستان روانہ، ایران سے مذاکرات میں پیش رفت کے خواہاں

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اہم مذاکرات میں شرکت کے لیے پاکستان روانہ ہو گئے ہیں۔ اسلام آباد...
-Advertisement-

اقوام متحدہ کے ورلڈ فوڈ پروگرام نے خبردار کیا ہے کہ لبنان شدید غذائی بحران کی زد میں آ گیا ہے جس کی بڑی وجہ ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی کے باعث سپلائی چین کا بری طرح متاثر ہونا ہے۔ اگرچہ ایک دو روزہ جنگ بندی نے فضائی حملوں کا سلسلہ تو روک دیا ہے تاہم لبنان میں حزب اللہ کے خلاف اسرائیلی کارروائیاں اب بھی جاری ہیں۔

بیروت سے ویڈیو لنک کے ذریعے گفتگو کرتے ہوئے ورلڈ فوڈ پروگرام کی کنٹری ڈائریکٹر ایلیسن اومان نے کہا کہ لبنان اب صرف نقل مکانی کے بحران تک محدود نہیں رہا بلکہ یہ تیزی سے غذائی عدم تحفظ کی سنگین صورتحال اختیار کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قیمتوں میں اضافے اور بے گھر خاندانوں کی جانب سے طلب بڑھنے کے باعث خوراک عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوتی جا رہی ہے۔

ورلڈ فوڈ پروگرام کے اعداد و شمار کے مطابق دو مارچ سے اب تک سبزیوں کی قیمتوں میں بیس فیصد سے زائد اور روٹی کی قیمت میں سترہ فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ایلیسن اومان نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ قیمتوں میں اضافہ، آمدنی کے ذرائع کا خاتمہ اور نقل مکانی کرنے والے خاندانوں کی بڑھتی ہوئی تعداد ایک خطرناک صورتحال کو جنم دے رہی ہے۔

ملک کے جنوبی علاقوں میں صورتحال سب سے زیادہ تشویشناک ہے جہاں اسی فیصد سے زائد مارکیٹیں مکمل طور پر بند ہو چکی ہیں جبکہ بیروت کی منڈیوں پر بھی شدید دباؤ ہے۔ جنوبی لبنان کے متاثرہ علاقوں میں تاجروں کا کہنا ہے کہ ان کے پاس بنیادی اشیائے خوردونوش کا ذخیرہ ایک ہفتے سے بھی کم رہ گیا ہے۔

اسرائیلی بمباری کے باعث جنوبی لبنان کے دشوار گزار علاقوں میں امدادی سامان پہنچانا ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ اگرچہ قاسملیہ پل کو دوبارہ فعال کر دیا گیا ہے لیکن نقل و حمل اب بھی شدید مشکلات کا شکار ہے۔ ورلڈ فوڈ پروگرام اب تک دس قافلوں کے ذریعے جنوبی لبنان میں پچاس ہزار سے ڈیڑھ لاکھ ضرورت مند افراد تک امداد پہنچا چکا ہے۔

ایلیسن اومان نے خبردار کیا کہ حالیہ کشیدگی نے کمزور طبقوں کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ اس وقت پورے لبنان میں نو لاکھ افراد غذائی عدم تحفظ کا شکار ہیں اور خدشہ ہے کہ یہ تعداد مزید بڑھ سکتی ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -