-Advertisement-

اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی کرپشن کیس میں گواہی ملتوی کرنے کی درخواست

تازہ ترین

چمن بارڈر کے راستے افغان مہاجرین کی رضاکارانہ وطن واپسی کا سلسلہ جاری

کوئٹہ سے افغان مہاجرین کی اپنے وطن واپسی کا عمل جاری ہے اور روزانہ کی بنیاد پر سینکڑوں افراد...
-Advertisement-

اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے اپنے خلاف جاری بدعنوانی کے مقدمے میں گواہی دینے کے عمل کو ملتوی کرنے کی استدعا کر دی ہے۔ نیتن یاہو کے وکلاء کی جانب سے جمعہ کے روز یروشلم ڈسٹرکٹ کورٹ میں دائر کی گئی درخواست میں کہا گیا ہے کہ خطے کی موجودہ سکیورٹی صورتحال کے پیش نظر وزیراعظم اگلے دو ہفتوں تک عدالت میں پیش ہونے سے قاصر ہیں۔

عدالتی دستاویزات کے مطابق نیتن یاہو کی جانب سے ایک سربمہر لفافہ عدالت میں جمع کرایا گیا ہے جس میں ان وجوہات کی تفصیلات درج ہیں جو ملکی اور علاقائی سطح پر رونما ہونے والے ڈرامائی واقعات سے جڑی ہیں۔ پراسیکیوشن کا جواب موصول ہونے کے بعد عدالت اس درخواست پر اپنا فیصلہ سنائے گی۔

اسرائیلی وزیراعظم کے خلاف جاری یہ مقدمہ، جس میں رشوت ستانی، دھوکہ دہی اور اعتماد کو ٹھیس پہنچانے کے الزامات شامل ہیں، 2019 میں تحقیقات کے بعد قائم کیا گیا تھا۔ نیتن یاہو ان تمام الزامات کی تردید کرتے ہیں۔ واضح رہے کہ 2020 سے جاری یہ عدالتی کارروائی وزیراعظم کی سرکاری مصروفیات کے باعث متعدد بار تاخیر کا شکار ہو چکی ہے۔

اسرائیل میں ایران کے ساتھ جنگ بندی کے اعلان کے بعد ہنگامی حالت ختم کر دی گئی تھی اور توقع کی جا رہی تھی کہ مقدمے کی سماعت اتوار سے دوبارہ شروع ہوگی۔ تاہم تازہ ترین پیش رفت نے اس عدالتی عمل کو ایک بار پھر موخر کر دیا ہے۔

یاد رہے کہ اکتوبر 2023 میں حماس کے حملوں اور بدعنوانی کے الزامات نے نیتن یاہو کی سیاسی ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ رائے عامہ کے حالیہ جائزوں کے مطابق اکتوبر میں متوقع انتخابات میں نیتن یاہو کی حکومتی اتحادی جماعتوں کو شکست کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -