-Advertisement-

فنڈز کی قلت: ٹرمپ کے امن بورڈ کا غزہ کی بحالی کا منصوبہ تعطل کا شکار

تازہ ترین

سابق گورنر پنجاب سردار ذوالفقار علی خان کھوسہ سپردِ خاک

سابق گورنر پنجاب اور سینئر سیاستدان سردار ذوالفقار علی خان کھوسہ کی نماز جنازہ ماڈل ٹاؤن کے اسپورٹس اسٹیڈیم...
-Advertisement-

عالمی اداروں کی جانب سے غزہ کی تعمیر نو کے لیے تخمینہ ستر ارب ڈالر لگایا گیا ہے، تاہم ڈونلڈ ٹرمپ کے قائم کردہ بورڈ آف پیس کو وعدہ کردہ سترہ ارب ڈالر کا انتہائی معمولی حصہ موصول ہوا ہے، جس کے باعث امریکی صدر کا غزہ کے مستقبل سے متعلق منصوبہ تعطل کا شکار ہو گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ کے آغاز سے قبل واشنگٹن میں منعقدہ کانفرنس میں خلیجی عرب ممالک نے غزہ میں حکومتی نظام اور تعمیر نو کے لیے اربوں ڈالر دینے کا وعدہ کیا تھا۔

اس منصوبے کا مقصد حماس کو غیر مسلح کرنے اور اسرائیلی فوج کے انخلا کے بعد غزہ کی بڑے پیمانے پر تعمیر نو کرنا ہے۔ فنڈز کی یہ فراہمی نیشنل کمیٹی فار دی ایڈمنسٹریشن آف غزہ نامی گروپ کے لیے مختص کی گئی تھی، جسے امریکی حمایت حاصل ہے اور جس کا مقصد حماس سے اقتدار سنبھالنا ہے۔

بورڈ کے امور سے واقف ایک ذریعے نے بتایا کہ دس وعدہ کرنے والے ممالک میں سے صرف متحدہ عرب امارات، مراکش اور خود امریکہ نے فنڈز فراہم کیے ہیں۔ اب تک ملنے والی رقم ایک ارب ڈالر سے بھی کم ہے، جبکہ ایران کے ساتھ جاری کشیدگی نے فنڈنگ کے مسائل کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ ایک فلسطینی عہدیدار نے بتایا کہ بورڈ کے ایلچی نکولائے ملاڈینوف نے فلسطینی دھڑوں کو آگاہ کیا ہے کہ فنڈز کی عدم دستیابی کے باعث نیشنل کمیٹی غزہ میں داخل ہونے سے قاصر ہے۔

علی شعت کی سربراہی میں یہ کمیٹی غزہ کے سرکاری امور اور پولیس کا کنٹرول سنبھالنے کے لیے تیار تھی، تاہم کمیٹی کے چودہ ارکان اس وقت قاہرہ کے ایک ہوٹل میں امریکی اور مصری حکام کی زیر نگرانی موجود ہیں۔ دوسری جانب مصر میں حماس کے ساتھ غیر مسلح ہونے کے معاملے پر مذاکرات جاری ہیں، لیکن تاحال کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی ہے۔

اسرائیل کا موقف ہے کہ فوج کے انخلا سے قبل حماس کو ہتھیار ڈالنے ہوں گے، جبکہ حماس کا کہنا ہے کہ وہ اسرائیلی انخلا کی ضمانت کے بغیر ایسا نہیں کرے گی۔ سفارتی ذرائع کو خدشہ ہے کہ مذاکرات میں تعطل کے باعث اسرائیل غزہ میں دوبارہ مکمل فوجی کارروائی شروع کرنے کا بہانہ تلاش کر رہا ہے۔

واضح رہے کہ غزہ میں دو سالہ اسرائیلی بمباری سے عمارتوں کا اسی فیصد حصہ تباہ ہو چکا ہے۔ سات اکتوبر دو ہزار تئیس کو حماس کے حملوں کے بعد شروع ہونے والی اس جنگ میں اسرائیلی اعداد و شمار کے مطابق بارہ سو افراد ہلاک ہوئے، جبکہ غزہ کے محکمہ صحت کے مطابق اسرائیلی کارروائیوں میں اب تک بہتر ہزار سے زائد فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -