-Advertisement-

چھ ہفتوں کی کشیدگی کے بعد امریکا اور ایران کے درمیان اعلیٰ سطحی مذاکرات کی تیاریاں

تازہ ترین

اسلام آباد مذاکرات: پاکستان کی امریکا اور ایران کے درمیان تعمیری رابطوں کی امید

اسلام آباد میں مشرق وسطیٰ میں قیام امن کے لیے اہم مذاکرات کا آغاز ہو گیا ہے جس میں...
-Advertisement-

امریکا اور ایران انیس سو اناسی کے اسلامی انقلاب کے بعد پہلی بار اعلیٰ ترین سطح پر مذاکرات کی تیاری کر رہے ہیں۔ سی این این کی رپورٹ کے مطابق چھ ہفتوں سے جاری کشیدگی کے بعد یہ پیش رفت انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔

مذاکرات کی قیادت امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کریں گے۔ واشنگٹن اور تہران کے درمیان انیس سو اناسی کے بعد سے براہ راست سفارتی رابطے انتہائی محدود رہے ہیں، جس کے پیش نظر یہ ملاقات ایک غیر معمولی سفارتی اقدام ہے۔

ماضی میں اس سطح کی سب سے نمایاں سفارتی کوشش سابق امریکی صدر باراک اوباما کے دور میں ہوئی تھی، جب امریکی وزیر خارجہ جان کیری اور ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف کے درمیان طویل جوہری مذاکرات ہوئے تھے۔ تاہم ان مذاکرات سے قبل مہینوں تک تکنیکی سطح پر کام کیا گیا تھا، جبکہ موجودہ مذاکرات کے لیے سفارتی تیاری کا عمل دکھائی نہیں دیتا اور ایجنڈا بھی تاحال غیر واضح ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں دو ہفتوں کی فائر بندی کا اعلان کیا تھا تاکہ مذاکرات کے لیے راستہ ہموار ہو سکے، تاہم اس جنگ بندی کی حیثیت تاحال کمزور ہے اور اس کے دائرہ کار پر فریقین میں اختلافات برقرار ہیں۔

ایران کا موقف ہے کہ فائر بندی کا اطلاق لبنان پر بھی ہونا چاہیے جہاں اسے حزب اللہ کی حمایت حاصل ہے، تاہم امریکی حکام نے اس مطالبے کو مسترد کر دیا ہے۔ اس کے علاوہ آبنائے ہرمز کی سیکیورٹی اور وہاں تک رسائی کا معاملہ بھی تنازع کا اہم سبب بنا ہوا ہے، جو عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی حساس راستہ ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ مجوزہ ملاقات خطرات اور مواقع دونوں سے بھرپور ہے۔ تاحال یہ واضح نہیں کہ اس سے کوئی ٹھوس پیش رفت ہوگی یا یہ محض ایک علامتی اقدام ثابت ہوگا۔ اگرچہ مذاکرات کا مقام اسلام آباد متوقع ہے، تاہم دونوں ممالک کی جانب سے ایجنڈے اور طریقہ کار کی باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -