-Advertisement-

فرانس: والد نے 9 سالہ بچے کو دو سال تک وین میں قید رکھا، بازیاب کرا لیا گیا

تازہ ترین

جنوبی لبنان میں اسرائیلی فضائی حملے، 3 امدادی کارکنوں سمیت 10 افراد جاں بحق

لبنان کے جنوبی علاقوں میں اسرائیلی فضائی حملوں کے نتیجے میں تین امدادی کارکنوں سمیت دس افراد ہلاک ہو...
-Advertisement-

فرانس کے مشرقی علاقے میں حکام نے ایک نو سالہ بچے کو بازیاب کروا لیا ہے جسے اس کے والد نے سن دو ہزار چوبیس سے ایک گاڑی میں قید کر رکھا تھا۔ مقامی پراسیکیوٹر نکولس ہیٹز کے مطابق بچے کو اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جبکہ اس کے تینتالیس سالہ والد کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔

پیر کے روز سوئٹزرلینڈ اور جرمنی کی سرحد کے قریب واقع گاؤں ہیگن باخ میں ایک پڑوسی کی جانب سے گاڑی سے بچوں کے رونے کی آوازیں سننے کی اطلاع پر پولیس نے کارروائی کی۔ گاڑی کا دروازہ توڑ کر اندر داخل ہونے پر پولیس کو بچہ برہنہ حالت میں کوڑے کے ڈھیر پر کمبل اوڑھے ملا۔ طویل عرصے تک ایک ہی پوزیشن میں رہنے کے باعث بچہ شدید غذائی قلت کا شکار ہے اور چلنے پھرنے سے قاصر ہے۔

تفتیش کے دوران والد نے دعویٰ کیا کہ اس نے اپنے ساتھی کی جانب سے بچے کو نفسیاتی اسپتال بھیجنے کے ارادے کے پیش نظر اسے نومبر دو ہزار چوبیس میں گاڑی میں چھپا دیا تھا۔ تاہم پراسیکیوٹر نے واضح کیا کہ بچے کے کسی نفسیاتی مرض میں مبتلا ہونے کا کوئی طبی ریکارڈ موجود نہیں ہے اور اسکول میں اس کی کارکردگی بھی تسلی بخش تھی۔

متاثرہ بچے نے تفتیشی حکام کو بتایا کہ وہ اپنے والد کی ساتھی کے ساتھ مشکلات کا شکار تھا اور اسے لگا کہ والد کے پاس اسے قید کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔ بچے کا کہنا ہے کہ وہ سن دو ہزار چوبیس سے نہانے سے بھی قاصر رہا اور اسے خوراک دن میں دو بار دی جاتی تھی۔ وہ رفع حاجت کے لیے پلاسٹک کی بوتلیں اور کوڑے کے تھیلے استعمال کرنے پر مجبور تھا۔

پراسیکیوٹر کے مطابق بچے کے والد پر اغوا سمیت دیگر الزامات کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ والد کی ساتھی نے بچے کی قید سے لاعلمی کا اظہار کیا ہے، تاہم ان پر بھی نابالغ کی مدد نہ کرنے کے الزام میں مقدمہ درج کر کے عدالتی نگرانی میں رہا کیا گیا ہے۔

بچے کی بارہ سالہ بہن اور والد کی ساتھی کی دس سالہ بیٹی کو سماجی بہبود کے محکمے کی تحویل میں دے دیا گیا ہے۔ حکام اس بات کی بھی تحقیقات کر رہے ہیں کہ آیا خاندان یا دوست احباب میں سے کوئی اور اس قید سے آگاہ تھا۔ اسکول انتظامیہ کو بتایا گیا تھا کہ بچہ دوسرے اسکول منتقل ہو گیا ہے جبکہ رشتہ داروں کا ماننا تھا کہ وہ کسی نفسیاتی ادارے میں زیر علاج ہے۔ مقامی باشندے اس واقعے پر شدید صدمے کا شکار ہیں۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -