اسلام آباد میں جاری امریکہ اور ایران کے مابین مذاکرات کے دوران بھارتی میڈیا کے ایک مخصوص حصے کی جانب سے پھیلائی گئی غلط معلومات اور غیر پیشہ ورانہ رویے پر عالمی سطح پر تنقید کا سلسلہ جاری ہے۔ اس کے برعکس پاکستان کی جانب سے سفارتی ثالثی کے کردار کو عالمی سطح پر بھرپور پذیرائی مل رہی ہے۔
پاکستان کی میزبانی میں ہونے والے ان اعلیٰ سطحی مذاکرات کا مقصد خطے میں جاری کشیدگی کو کم کرنا ہے۔ عالمی مبصرین نے اس عمل کو کامیاب بنانے اور وفود کو محفوظ ماحول فراہم کرنے میں پاکستان کے فعال کردار کو سراہا ہے۔
اس دوران بھارتی میڈیا کے متعدد اداروں نے حقائق کو مسخ کرتے ہوئے منفی بیانیہ تشکیل دینے کی کوشش کی، جس کے نتیجے میں ان کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچا۔ ایک لائیو ٹرانسمیشن کے دوران سابق امریکی سفارت کار جیفری گنٹر نے ٹائمز ناؤ کے اینکر کو اس وقت ٹوک دیا جب انہوں نے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی پاکستان میں سیکیورٹی سے متعلق گمراہ کن سوالات اٹھائے۔
جیفری گنٹر نے واضح کیا کہ امریکی نائب صدر مکمل طور پر محفوظ ہیں اور انہوں نے اس عالمی معاملے کو پاک بھارت تنازع کا رنگ دینے کی کوششوں پر کڑی تنقید کی۔ انہوں نے زور دیا کہ مذاکرات کا مرکز توانائی کے استحکام اور معاشی اثرات جیسے اہم عالمی چیلنجز ہیں، لہذا میڈیا کو غیر ذمہ دارانہ سنسنی خیزی سے گریز کرنا چاہیے۔
بھارتی میڈیا کو اس وقت بھی شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا جب ان کی جانب سے یہ بے بنیاد دعویٰ کیا گیا کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس پاکستان کا دورہ نہیں کریں گے۔ تاہم جے ڈی وینس کی طے شدہ شیڈول کے مطابق اسلام آباد آمد نے ان تمام قیاس آرائیوں کو دم توڑنے پر مجبور کر دیا۔
ایک اور واقعے میں بھارتی اینکر ارناب گوسوامی اور چینی تجزیہ کار وکٹر گاو کے درمیان مباحثہ سوشل میڈیا پر وائرل ہوا، جس میں وکٹر گاو نے مذاکرات کے انعقاد کا سہرا پاکستان کے سر باندھا۔ اس بیان پر اینکر کی جانب سے غیر معمولی ردعمل اور بات کو درمیان میں کاٹنے کے عمل پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
ان واقعات نے پاکستان کے ایک کلیدی سفارتی سہولت کار کے طور پر تشخص کو مزید مستحکم کیا ہے جبکہ بھارتی میڈیا کی جانب سے غیر تصدیق شدہ اطلاعات کے ذریعے مذاکراتی عمل کو سبوتاژ کرنے کی کوششوں پر عالمی سطح پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ فی الحال تمام تر توجہ ان مذاکرات کے نتائج پر مرکوز ہے جو خطے کے مستقبل اور استحکام کے لیے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔
