نیدرلینڈز ٹیسلا کی سیلف ڈرائیونگ ٹیکنالوجی کو باضابطہ طور پر منظور کرنے والا پہلا یورپی ملک بن گیا ہے۔ نیدرلینڈز کے روڈ ورتھینس سرٹیفیکیشن ادارے آر ڈی ڈبلیو نے جمعہ کو اعلان کیا کہ ٹیسلا کا ڈرائیور اسسٹنس سسٹم اب نیدرلینڈز میں استعمال کیا جا سکے گا اور مستقبل میں اسے یورپی یونین کے دیگر رکن ممالک تک بھی پھیلایا جا سکتا ہے۔
ادارے کے مطابق اس سسٹم کے استعمال کے دوران ڈرائیور کا گاڑی میں موجود ہونا اور سڑک پر گہری نظر رکھنا لازمی ہوگا۔ یہ پیش رفت ٹیسلا کے اس سسٹم کے مطابق ہے جو پہلے سے ہی امریکہ میں زیر استعمال ہے۔ آر ڈی ڈبلیو کا کہنا ہے کہ اس سسٹم کا ڈیڑھ سال سے زائد عرصے تک ٹیسٹ ٹریک اور عوامی شاہراہوں پر تفصیلی جائزہ لیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق ٹیکنالوجی کا درست استعمال روڈ سیفٹی میں بہتری لا سکتا ہے۔
اس فیچر کے تحت گاڑی کی اسٹیئرنگ، بریکنگ، روٹ نیویگیشن اور پارکنگ کا کنٹرول کمپیوٹر سسٹم کے پاس ہوتا ہے، تاہم ڈرائیور کو ہر وقت چوکس رہنا پڑتا ہے تاکہ ضرورت پڑنے پر فوری طور پر کنٹرول سنبھالا جا سکے۔
ایلون مسک کی زیر قیادت ٹیسلا کی یورپی ذیلی کمپنی نے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔ کمپنی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ایف ایس ڈی سپروائزڈ کی منظوری مل گئی ہے اور جلد ہی اس کا نفاذ شروع کر دیا جائے گا۔ ایلون مسک نے بھی اس کامیابی پر اپنی ٹیم اور ڈچ ریگولیٹری حکام کا شکریہ ادا کیا۔
آر ڈی ڈبلیو نے واضح کیا ہے کہ یہ سسٹم مکمل خود کار ڈرائیونگ نہیں ہے، بلکہ یہ ایک ڈرائیور اسسٹنس سسٹم ہے جس کی ذمہ داری مکمل طور پر انسان پر عائد ہوتی ہے۔ اس فیصلے کو یورپی کمیشن سے بھی توثیق کروانا ہوگی تاکہ اسے یورپی یونین کی سطح پر تسلیم کیا جا سکے۔
یورپ اور نیدرلینڈز میں گزشتہ چند برسوں کے دوران ٹیسلا کی فروخت میں سستی دیکھی گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق اس کی وجوہات میں ایلون مسک کی سیاسی سرگرمیاں اور چینی برقی گاڑیوں کی جانب سے بڑھتا ہوا مقابلہ شامل ہے۔
