-Advertisement-

ڈونلڈ ٹرمپ کی تنقید کے بعد برطانیہ کا چاگوس جزائر کی حوالگی کا منصوبہ موخر

تازہ ترین

امریکا: ایرانی حکومت کی حامی پروپیگنڈسٹ ‘اسکریمینگ میری’ کے اہل خانہ حراست میں، ملک بدری کا امکان

امریکی محکمہ خارجہ نے ہفتے کے روز اعلان کیا ہے کہ ایرانی حکومت کی حامی مریم طہماسبی اور ان...
-Advertisement-

برطانیہ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مخالفت کے بعد چاگوس جزائر کو ماریشس کے حوالے کرنے کا منصوبہ ترک کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ برطانوی میڈیا کے مطابق جزائر کی واپسی کے لیے درکار قانون سازی پارلیمنٹ میں مقررہ وقت پر مکمل نہ ہو سکی اور اب حکومت کی جانب سے نیا بل پیش کیے جانے کے امکانات بھی معدوم ہو گئے ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنوری میں اس معاہدے کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے لندن کی بڑی حماقت قرار دیا تھا۔ چاگوس جزائر میں ڈیاگو گارشیا کے مقام پر برطانیہ اور امریکہ کا مشترکہ اہم فوجی اڈہ قائم ہے، جس کی سٹریٹیجک اہمیت کے پیش نظر ٹرمپ انتظامیہ اس معاہدے پر تحفظات رکھتی ہے۔

برطانوی وزیراعظم کیئر سٹارمر کی حکومت نے اگرچہ اس معاہدے کی حمایت جاری رکھی ہے، تاہم حکومتی ذرائع کا اعتراف ہے کہ امریکی حمایت کے بغیر اس منصوبے کو آگے بڑھانا ممکن نہیں ہے۔ گزشتہ برس مئی میں برطانیہ نے جزائر کی خودمختاری ماریشس کو منتقل کرنے اور ڈیاگو گارشیا کے فوجی اڈے کو لیز پر برقرار رکھنے کا معاہدہ کیا تھا۔

اس معاہدے کے تحت برطانیہ کو یہ جزائر اپنے سابقہ نوآبادیاتی ملک ماریشس کے حوالے کرنا تھے اور بدلے میں وہاں موجود مشترکہ فوجی اڈے کو ایک صدی کے لیے لیز پر لینا تھا۔ اگرچہ اس معاہدے کی حتمی لاگت کا سرکاری اعلان نہیں کیا گیا، تاہم ذرائع کے مطابق سالانہ لیز کی مد میں نو کروڑ پاؤنڈز کی ادائیگی متوقع تھی۔

یاد رہے کہ سنہ دو ہزار انیس میں عالمی عدالت انصاف نے برطانیہ کو چاگوس جزائر ماریشس کے حوالے کرنے کی سفارش کی تھی۔ برطانیہ نے ساٹھ کی دہائی میں ماریشس کی آزادی کے بعد بھی ان جزائر پر اپنا کنٹرول برقرار رکھا تھا، جس کے دوران وہاں سے ہزاروں مقامی باشندوں کو بے دخل کر دیا گیا تھا جو اب بھی برطانوی عدالتوں میں معاوضے کے حصول کے لیے قانونی جنگ لڑ رہے ہیں۔ وزیراعظم کیئر سٹارمر کا موقف رہا ہے کہ بین الاقوامی عدالتی فیصلوں کے بعد برطانیہ کے پاس ان جزائر کی ملکیت پر سوالات اٹھ رہے تھے اور معاہدہ ہی اس فوجی اڈے کو فعال رکھنے کی واحد ضمانت تھا۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -