یوکرین کے شہر اوڈیسا میں روسی ڈرون حملوں کے نتیجے میں کم از کم دو افراد ہلاک اور دو زخمی ہو گئے۔ مقامی حکام کے مطابق یہ کارروائی آرتھوڈوکس ایسٹر کے موقع پر مجوزہ جنگ بندی کے اعلان سے چند گھنٹے قبل کی گئی۔ ڈرون حملوں سے رہائشی عمارتیں، مکانات اور ایک کنڈرگارٹن اسکول کو شدید نقصان پہنچا۔
یوکرینی فضائیہ نے دعویٰ کیا ہے کہ روس نے رات بھر میں 160 ڈرونز سے حملہ کیا جن میں سے 133 کو فضا میں ہی تباہ یا ناکارہ بنا دیا گیا۔ دوسری جانب روسی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ انہوں نے بھی روس اور کریمیا کے علاقوں میں یوکرین کے 99 ڈرونز مار گرائے ہیں۔
روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے جمعرات کو آرتھوڈوکس ایسٹر کے موقع پر 32 گھنٹے کی جنگ بندی کا اعلان کیا تھا، جس کے تحت ہفتے کی سہ پہر چار بجے سے اتوار کی رات تک کارروائیاں روکنے کا حکم دیا گیا ہے۔
یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے اس جنگ بندی پر عمل درآمد کا وعدہ کرتے ہوئے اسے امن کی جانب پیش رفت کا موقع قرار دیا، تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اگر جنگ بندی کی خلاف ورزی کی گئی تو یوکرین کی جانب سے سخت فوجی جواب دیا جائے گا۔ زیلنسکی نے کہا کہ ایسٹر کا دن خاموشی اور تحفظ کا ہونا چاہیے، لیکن ہم جانتے ہیں کہ ہمارا واسطہ کن سے ہے۔
کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے اس اقدام کو انسانی ہمدردی قرار دیا، تاہم واضح کیا کہ ماسکو اب بھی اپنے دیرینہ مطالبات پر قائم ہے۔ اس سے قبل دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملے روکنے کی تجویز بھی دی تھی۔
جنگ کے دوران قیدیوں کے تبادلے کا عمل جاری ہے، جس کے تحت ہفتے کے روز 175 روسی فوجی وطن واپس پہنچ گئے ہیں۔ یوکرینی صدر نے بھی اس تبادلے کی تصدیق کی ہے، جس میں 175 فوجی اہلکاروں کے ساتھ سات شہری بھی شامل ہیں۔ قیدیوں کی واپسی کا یہ عمل امریکا کی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات کا ایک نادر مثبت نتیجہ ہے۔
ادھر روسی میڈیا کے مطابق یوکرین کی فوج کی جانب سے اگست 2024 میں کرسک کے علاقے میں کی گئی پیش قدمی کے دوران پکڑے گئے سات روسی شہری بھی واپس پہنچ گئے ہیں۔ روسی انسانی حقوق کی محتسب تاتیانا موسکالکووا نے ان افراد کا بیلاروس اور یوکرین کی سرحد پر استقبال کیا۔
