-Advertisement-

مشرقِ وسطیٰ میں جنگی قوانین کی خلاف ورزیوں پر اقوامِ متحدہ کا احتساب کا مطالبہ

تازہ ترین

میکرون کا ایرانی صدر پر اسلام آباد مذاکرات سے خطے میں کشیدگی کم کرنے پر زور

فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان پر زور دیا ہے کہ وہ اسلام آباد میں جاری...
-Advertisement-

اقوام متحدہ کے مختلف ذیلی اداروں کے سربراہان نے مشرق وسطیٰ میں بین الاقوامی قوانین کی بڑے پیمانے پر خلاف ورزیوں کے خاتمے اور ذمہ داروں کے احتساب کا مطالبہ کیا ہے۔ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر کیے گئے حملوں کے بعد شروع ہونے والی جنگ کو چھ ہفتے گزر چکے ہیں اور انسانی جانوں کے ضیاع میں تشویشناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے۔

اقوام متحدہ کی انٹر ایجنسی اسٹینڈنگ کمیٹی نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ خطے میں جنگی اصولوں اور بین الاقوامی انسانی قوانین کی مسلسل پامالی انتہائی تشویشناک ہے۔ کمیٹی کا کہنا ہے کہ جنگ کے بھی کچھ اصول ہوتے ہیں جن کا احترام ہر صورت لازم ہے۔

یہ بیان اقوام متحدہ کے انسانی امور کے سربراہ ٹام فلیچر سمیت صحت، خوراک، مہاجرین اور بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے اداروں کے سربراہان کی جانب سے جاری کیا گیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ 28 فروری سے جاری تنازع کے بعد سے ہلاکتوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔

صرف گزشتہ ایک ماہ کے دوران مشرق وسطیٰ میں ہزاروں شہری ہلاک اور زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ لاکھوں افراد بے گھر ہوئے ہیں جن میں سے کئی خاندان ایک سے زائد بار نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں۔ بنیادی سہولیات تک رسائی ناممکن ہوتی جا رہی ہے اور ہسپتالوں، ایمبولینسوں، اسکولوں، پلوں، رہائشی عمارتوں اور بجلی و پانی کے مراکز کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

اقوام متحدہ کے حکام نے خواتین، بچوں اور کمزور طبقات پر مرتب ہونے والے اثرات پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اس کے علاوہ ایندھن اور خوراک کی قیمتوں میں اضافے سے عالمی سپلائی چین بھی متاثر ہو رہی ہے۔

بیان میں اس بات پر زور دیا گیا کہ انسانی امداد فراہم کرنے والے کارکنان بھی براہ راست حملوں کی زد میں ہیں۔ رواں برس کے آغاز سے اب تک مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں 14، ایران میں 8 اور لبنان میں 5 امدادی کارکن ہلاک یا زخمی ہو چکے ہیں۔

اقوام متحدہ کے سربراہان نے شہریوں اور امدادی کارکنوں پر حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے تمام فریقین سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ شہریوں اور بنیادی ڈھانچے کے تحفظ کی اپنی قانونی ذمہ داریوں کو پورا کریں۔ ان کا کہنا ہے کہ تمام خلاف ورزیوں پر جوابدہی کا عمل یقینی بنایا جانا چاہیے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -