-Advertisement-

امریکی مخالفت کے بعد برطانیہ کا چاگوس جزائر کی حوالگی کا منصوبہ معطل

تازہ ترین

ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کے مثبت نتائج کی امید ہے، خرم دستگیر

سابق وزیر خارجہ خرم دستگیر نے کہا ہے کہ پاکستان نے ایران اور امریکا کے درمیان نیک نیتی کے...
-Advertisement-

برطانیہ کی حکومت نے چاگوس جزائر پر خودمختاری ماریشس کے حوالے کرنے کے معاہدے کو فی الحال روک دیا ہے۔ لندن اور واشنگٹن کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اس معاہدے پر تنقید کے بعد یہ فیصلہ سامنے آیا ہے۔ دی ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، جزائر کی منتقلی کے لیے درکار قانون سازی کو حکومت کے آئندہ پارلیمانی ایجنڈے میں شامل نہیں کیا جائے گا۔

برطانوی وزیراعظم کیئر سٹارمر کے دفتر کا کہنا ہے کہ لندن اب بھی واشنگٹن کو اس معاہدے کی باضابطہ حمایت کے لیے قائل کرنے کی کوشش کرے گا۔ معاہدے کے تحت برطانیہ کو ڈیگو گارشیا کے اسٹریٹجک فوجی اڈے پر ننانوے سالہ لیز حاصل رہے گی تاکہ امریکی آپریشنز جاری رہ سکیں۔ برطانوی حکومت کے ترجمان نے واضح کیا کہ ڈیگو گارشیا کی سکیورٹی ان کی ترجیح ہے اور معاہدے پر عمل درآمد صرف امریکی حمایت کے ساتھ ہی ممکن ہوگا۔

اس معاملے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فروری میں اسے ایک بڑی غلطی قرار دیا تھا۔ دوسری جانب، چاگوس کے مقامی باشندوں کی تنظیم کے ترجمان ٹوبی نوسکوتھ نے معاہدے کے التوا پر حیرت کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس پورے عمل میں چاگوس کے عوام، خاص طور پر بزرگوں اور متاثرین کو نظر انداز کیا گیا ہے۔ انہوں نے مذاکرات پر ضائع ہونے والے خطیر فنڈز اور مقامی لوگوں کے حق خود ارادیت سے انکار پر سوال اٹھائے ہیں۔

لندن اور واشنگٹن کے تعلقات میں تناؤ کی ایک بڑی وجہ ایران کے خلاف امریکی و اسرائیلی جنگ میں کیئر سٹارمر کی ہچکچاہٹ ہے۔ سٹارمر نے ابتدا میں برطانوی فضائی اڈوں کو امریکی حملوں کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دینے سے انکار کیا تھا، تاہم بعد ازاں صرف دفاعی کارروائیوں کی اجازت دی گئی۔ صدر ٹرمپ نے برطانوی وزیراعظم کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ونسٹن چرچل نہیں ہیں اور انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان قائم خصوصی تعلقات کو نقصان پہنچایا ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -