-Advertisement-

عراقی پارلیمنٹ نے نزار عمیدی کو ملک کا نیا صدر منتخب کر لیا

تازہ ترین

پاکستان میں مذاکرات کے باوجود ایران کے ساتھ کسی معاہدے تک نہ پہنچ سکے: جے ڈی وینس

اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے طویل مذاکرات کسی حتمی معاہدے تک پہنچے بغیر ختم...
-Advertisement-

عراق کی پارلیمنٹ نے ہفتے کے روز کرد سیاست دان نزار عمیدی کو ملک کا نیا صدر منتخب کر لیا ہے۔ گزشتہ نومبر میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات کے بعد یہ تقرری عمل میں آئی ہے۔ اٹھاون سالہ نزار عمیدی سابق وزیر ماحولیات رہ چکے ہیں اور وہ 2024 سے بغداد میں پیٹریاٹک یونین آف کردستان کے سیاسی دفتر کی سربراہی کر رہے تھے۔ عراق میں صدارتی عہدہ بڑی حد تک علامتی نوعیت کا حامل ہے۔

عراقی نظام کے تحت فرقہ وارانہ اختیارات کی تقسیم کے فارمولے کے مطابق وزیراعظم کا شیعہ، پارلیمنٹ کے اسپیکر کا سنی مسلمان اور صدر کا کرد ہونا لازمی ہے۔ صدر کے انتخاب کے بعد اب تمام تر نظریں وزیراعظم کے انتخاب پر مرکوز ہیں جو کہ ایک انتہائی حساس اور اہم مرحلہ تصور کیا جا رہا ہے۔

اس صورتحال میں عراق میں حکومت سازی کا عمل پیچیدہ ہوتا جا رہا ہے۔ شیعہ سیاسی اتحاد، جس کے پاس پارلیمنٹ میں اکثریت موجود ہے، نے ایران کے حمایت یافتہ نوری المالکی کو وزیراعظم کے لیے نامزد کیا ہے۔ اس نامزدگی پر واشنگٹن کی جانب سے شدید تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنوری میں دھمکی دی تھی کہ اگر نوری المالکی کو کابینہ تشکیل دینے کے لیے نامزد کیا گیا تو واشنگٹن عراق کی حمایت ختم کر دے گا۔ ایران اور امریکا کے مابین حالیہ چھ ہفتوں پر محیط جنگ کے بعد منگل کے روز جنگ بندی کا اعلان کیا گیا تھا۔

اس کشیدہ صورتحال کے درمیان واشنگٹن اور تہران کے مابین نصف صدی کے دوران اعلیٰ ترین سطح کے مذاکرات ہفتے کے روز اسلام آباد میں ہو رہے ہیں جس کا مقصد جنگ کو مستقل طور پر ختم کرنا ہے۔ عراق طویل عرصے سے ایران اور امریکا کے درمیان توازن برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے اور یہاں وزیراعظم کا عہدہ وسیع اختیارات کا حامل ہوتا ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -