اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات کے طویل دور کے بعد بھی کسی حتمی معاہدے تک رسائی ممکن نہیں ہو سکی ہے۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے واضح کیا ہے کہ ایران کی جانب سے جوہری ہتھیاروں کے حصول سے دستبردار ہونے کے حوالے سے کوئی یقین دہانی نہیں کرائی گئی۔
پاکستان کی میزبانی میں ہونے والے ان اہم مذاکرات میں آبنائے ہرمز کی صورتحال اور تہران کے جوہری پروگرام سمیت دیگر معاملات پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق بات چیت کا مجموعی ماحول مثبت رہا تاہم آبنائے ہرمز کے کنٹرول پر ڈیڈ لاک تاحال برقرار ہے۔ امریکا نے دعویٰ کیا ہے کہ اس اہم آبی گزرگاہ پر ہفتے کے روز مائن کلیئرنگ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں کہا کہ اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان شدید نوعیت کے مذاکرات بلا تعطل جاری رہے۔ ان کے مطابق گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران جوہری تنازع، جنگی ہرجانے، پابندیوں کے خاتمے اور خطے میں جنگ کے مکمل خاتمے جیسے اہم موضوعات کا احاطہ کیا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ سفارتی عمل کی کامیابی کا انحصار فریق مخالف کی نیک نیتی اور غیر قانونی مطالبات سے گریز پر ہے۔
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر چین نے ایران کو ہتھیار فراہم کیے تو بیجنگ کو سنگین مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا۔ امریکی انٹیلی جنس رپورٹس کے مطابق چین آنے والے ہفتوں میں ایران کو نئے فضائی دفاعی نظام فراہم کرنے کی تیاری کر رہا ہے، جس سے خدشہ ہے کہ ایران جنگ بندی کے دوران اپنے ہتھیاروں کے ذخیرے کو دوبارہ بھرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
مذاکرات کے لیے ایران کے اعلیٰ سطحی وفد کی اسلام آباد آمد کے ساتھ ہی پاسدارانِ انقلاب، فضائیہ، بحریہ اور القدس فورس کے اعلیٰ حکام بھی پاکستان پہنچ چکے ہیں۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق یہ حکام وفد کو لاجسٹک معاونت اور مشاورت فراہم کرنے کے لیے پہنچے ہیں۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی قیادت میں امریکی وفد کی ایرانی حکام سے براہ راست ملاقات کو دونوں ممالک کے مابین ایک غیر معمولی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ ماضی میں یہ رابطے اکثر ثالثوں کے ذریعے ہوتے رہے ہیں۔
