ہیٹی کے شمالی علاقے میں واقع تاریخی قلعے لافیریئر سیٹاڈل میں بھگدڑ مچنے سے کم از کم 30 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اموات کی تعداد میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ یہ افسوسناک واقعہ ہفتے کے روز پیش آیا جب سیاحوں اور طلبا کی بڑی تعداد یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے میں شامل اس مقام پر سالانہ تقریب میں شرکت کے لیے جمع تھی۔
نارتھ ڈیپارٹمنٹ کے سول پروٹیکشن سربراہ جین ہنری پیٹ کے مطابق بھگدڑ قلعے کے داخلی دروازے پر مچی۔ انہوں نے بتایا کہ بارش کے باعث صورتحال مزید سنگین ہو گئی جس کی وجہ سے ہلاکتوں میں اضافہ ہوا۔ انیسویں صدی کے اوائل میں تعمیر کیا گیا یہ قلعہ ہیٹی کے اہم ترین سیاحتی مقامات میں شمار ہوتا ہے جسے ملک کی فرانس سے آزادی کے فوراً بعد تعمیر کیا گیا تھا۔
ہیٹی کے وزیراعظم ایلکس ڈیڈیر فلس ایمی نے اس المناک واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے سوگوار خاندانوں سے تعزیت کرتے ہوئے مشکل کی اس گھڑی میں ان کے ساتھ مکمل یکجہتی کا یقین دلایا ہے۔ وزیراعظم کے بیان میں بتایا گیا ہے کہ تقریب میں بڑی تعداد میں نوجوانوں نے شرکت کی تھی، تاہم فوری طور پر ہلاک ہونے والوں کی شناخت کے بارے میں معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔
ہیٹی کیریبین خطے کا ایک ملک ہے جو ہسپانیولا جزیرے کے مغربی حصے پر واقع ہے۔ یہ ملک جغرافیائی اعتبار سے کیوبا اور جمیکا کے مشرق اور بہاماس کے جنوب میں موجود ہے۔ حکام تاحال جائے وقوعہ پر امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں اور واقعے کی مزید تفصیلات اکٹھی کی جا رہی ہیں۔
