ہنگری میں آج اہم عام انتخابات کے لیے پولنگ کا عمل جاری ہے جو وزیر اعظم وکٹر اوربان کے 16 سالہ اقتدار کے خاتمے کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتے ہیں۔ ملکی معیشت کی سست روی، مہنگائی اور حکومتی سطح پر بدعنوانی کے الزامات کے باعث ووٹرز میں تبدیلی کی خواہش شدت اختیار کر گئی ہے۔
ایک سو ننانوے نشستوں پر مشتمل پارلیمنٹ کے لیے ووٹنگ کا عمل مقامی وقت کے مطابق صبح چھ بجے شروع ہوا جو شام سات بجے تک جاری رہے گا۔ رائے عامہ کے حالیہ جائزوں کے مطابق پیٹر میگیار کی قیادت میں نو تشکیل شدہ سینٹر رائٹ پارٹی ٹیزا، اوربان کی فیڈیز پارٹی سے 7 سے 9 فیصد پوائنٹس آگے ہے اور ٹیزا کی عوامی حمایت 38 سے 41 فیصد کے درمیان بتائی جا رہی ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ انتخابات ہنگری کی تاریخ میں ریکارڈ ٹرن آؤٹ کا باعث بن سکتے ہیں۔ ووٹرز کا کہنا ہے کہ ملک میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور معاشی بحران کے خاتمے کے لیے تبدیلی ناگزیر ہے۔ دوسری جانب یورپی یونین، روس اور امریکہ کی نظریں بھی اس انتخابی نتیجے پر مرکوز ہیں۔
وکٹر اوربان، جو خود کو روایتی اقدار کا محافظ قرار دیتے ہیں، نے انتخابی مہم کے دوران اسے جنگ اور امن کے درمیان انتخاب قرار دیا تھا۔ اوربان روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن کے قریبی سمجھے جاتے ہیں اور ان کی شکست یوکرین کے لیے یورپی یونین کی جانب سے 90 ارب یورو کے امدادی پیکیج کی راہ ہموار کر سکتی ہے۔
اپوزیشن رہنما پیٹر میگیار کا کہنا ہے کہ یہ انتخابات ملک کے مستقبل اور اس کی سمت کے تعین کے لیے ایک ریفرنڈم کی حیثیت رکھتے ہیں۔ تاہم سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ نتائج کے بارے میں حتمی پیش گوئی کرنا قبل از وقت ہے، کیونکہ ووٹرز کی ایک بڑی تعداد اب بھی غیر فیصلہ کن ہے اور انتخابی حلقہ بندیوں کا فائدہ حکمران جماعت کو مل سکتا ہے۔
نوجوان ووٹرز میں اوربان کی مقبولیت میں نمایاں کمی دیکھی جا رہی ہے، جن کی تعداد 30 سال سے کم عمر افراد میں محض 8 فیصد تک محدود ہے۔ اگر اپوزیشن کامیابی حاصل کرتی ہے تو اوربان کے دور میں متعارف کرائے گئے قانونی اور ادارہ جاتی ڈھانچے کو تبدیل کرنا نئی حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج ہوگا۔
