-Advertisement-

امریکہ خیرسگالی کے باوجود ایران کا اعتماد حاصل کرنے میں ناکام، محمد باقر قالیباف

تازہ ترین

یوکرین اور روس کا ایک دوسرے پر آرتھوڈوکس ایسٹر جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام

روس اور یوکرین نے ایک دوسرے پر آرتھوڈوکس ایسٹر کے موقع پر کریملن کی جانب سے اعلان کردہ جنگ...
-Advertisement-

اسلام آباد میں منعقدہ مذاکرات کے طویل ترین دور کے باوجود امریکا اور ایران کسی حتمی معاہدے تک پہنچنے میں ناکام رہے ہیں جس کے بعد خطے میں پہلے سے موجود نازک جنگ بندی کے مزید خطرے میں پڑنے کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔ چھ ہفتوں سے جاری اس تنازع میں اب تک ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے اتوار کو سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنے بیان میں کہا کہ ایران نے مذاکرات میں سنجیدگی سے شرکت کی تاہم ماضی کے تلخ تجربات کی روشنی میں تہران کو شکوک و شبہات کا سامنا رہا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران کی جانب سے نیک نیتی اور تعمیری تجاویز پیش کرنے کے باوجود امریکا ایران کا اعتماد حاصل کرنے میں ناکام رہا۔

قالیباف نے مزید کہا کہ امریکا اب ایران کے اصولی موقف سے آگاہ ہو چکا ہے اور اسے فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ ایران کا اعتماد کیسے حاصل کر سکتا ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ایران اپنے قومی حقوق کے تحفظ کے لیے طاقت کی سفارت کاری اور عسکری مزاحمت کو یکساں اہمیت دیتا رہے گا۔ انہوں نے مذاکرات کی میزبانی کرنے پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا۔

دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بتایا کہ مذاکرات کے دوران کئی نکات پر اتفاق ہوا تاہم دو اہم معاملات پر اختلافات برقرار رہنے کے باعث حتمی معاہدہ نہ ہو سکا۔ انہوں نے کہا کہ عدم اعتماد کی فضا میں صرف ایک نشست میں معاہدے کی توقع رکھنا حقیقت پسندانہ نہیں تھا۔

اسماعیل بقائی کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران آبنائے ہرمز، جوہری مسئلے، جنگی ہرجانے، پابندیوں کے خاتمے اور خطے میں جاری جنگ کو مکمل طور پر روکنے جیسے اہم موضوعات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ انہوں نے زور دیا کہ سفارتی عمل کی کامیابی کا انحصار فریق مخالف کی سنجیدگی، غیر قانونی مطالبات سے گریز اور ایران کے جائز حقوق کو تسلیم کرنے پر ہے۔

ایرانی ترجمان نے مزید کہا کہ تہران امریکا کے وعدہ خلافیوں اور ماضی کے اقدامات کو فراموش نہیں کرے گا اور نہ ہی جنگ کے دوران کیے گئے جرائم کو نظر انداز کیا جائے گا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اسلامی جمہوریہ ایران اپنے قومی مفادات اور ملکی تحفظ کے لیے سفارت کاری سمیت تمام دستیاب ذرائع استعمال کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -