-Advertisement-

جنوبی لبنان: والد کی تدفین کے دوران اسرائیلی حملے میں شیر خوار بچی جاں بحق

تازہ ترین

امریکا اعتماد سازی میں ناکام، ایران کا پاکستان کے کردار کو سراہنے کا اعلان

تہران میں ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ حالیہ مذاکرات کے دوران امریکہ ایرانی...
-Advertisement-

جنوبی لبنان میں اسرائیلی فضائی حملے نے سات سالہ ایلین سعید کی زندگی کو خون آلود پٹیوں میں لپیٹ دیا ہے۔ ایلین اپنے والد کی تدفین کے لیے آبائی گاؤں سریفا پہنچی تھی، تاہم اسی دوران ہونے والے ایک اور ہولناک حملے نے اس کی کمسن بہن تلین اور دیگر رشتہ داروں کو موت کی نیند سلا دیا۔ یہ واقعہ بدھ کے روز پیش آیا، جب خطے میں امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کی امیدیں وابستہ تھیں، لیکن اس کے برعکس لبنان میں اسرائیلی بمباری سے 350 سے زائد افراد لقمہ اجل بن گئے۔

ایلین کے 64 سالہ دادا ناصر سعید، جو خود بھی اس حملے میں زخمی ہوئے، نے بتایا کہ انہیں امید تھی کہ جنگ بندی کا اطلاق لبنان پر بھی ہوگا، اسی لیے وہ دعا خوانی کے لیے گاؤں پہنچے تھے، مگر اچانک ایک قیامت خیز دھماکے نے سب کچھ تہس نہس کر دیا۔ اتوار کے روز ٹائر شہر کے ہسپتال میں ناصر سعید نے سبز کپڑوں میں لپٹی اپنے پیاروں کی لاشیں وصول کیں، جن میں دو سال سے کم عمر کی پوتی تلین بھی شامل تھی۔

اسرائیلی فوج نے واقعے پر لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ وہ حزب اللہ کے خلاف کارروائیوں میں شہریوں کے نقصان کو کم کرنے کے لیے اقدامات کرتی ہے۔ تاہم، ناصر سعید نے ہسپتال میں زیر علاج اپنی بہو غنوا کے پاس کھڑے ہو کر اس حملے کو انسانیت سوز اور جنگی جرم قرار دیا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر اسرائیل میں کسی بچے کو خراش بھی آئے تو پوری دنیا حرکت میں آ جاتی ہے، کیا لبنانی شہری انسان نہیں ہیں۔

تلین کی پیدائش 2024 میں جنگ کے دوران ہوئی تھی اور وہ جنگ کی ہی نذر ہو گئی۔ محمد نزال، جو کہ غنوا کے والد ہیں، کا کہنا ہے کہ بچی جنگ میں پیدا ہوئی اور جنگ میں ہی وفات پا گئی۔ لبنان میں 2 مارچ سے جاری کشیدگی کے بعد سے اب تک 2 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں 165 بچے اور تقریباً 250 خواتین شامل ہیں۔

دوسری جانب پوپ فرانسس نے بھی سینٹ پیٹرز اسکوائر سے اپنے خطاب میں لبنانی عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہریوں کو جنگ کے خوفناک اثرات سے بچانا ایک اخلاقی ذمہ داری ہے۔ دریں اثنا، ٹائر کے جبل عامل ہسپتال کے ایمرجنسی آپریشنز کے سربراہ ڈاکٹر عباس عطیہ نے بتایا کہ حالیہ بمباری گزشتہ کئی برسوں میں سب سے شدید ہے، جہاں بڑی تعداد میں زخمی بچے ہسپتال لائے جا رہے ہیں اور طبی عملے کو ایک ہی وقت میں بڑی تعداد میں مریضوں کو سنبھالنے کے شدید چیلنجز کا سامنا ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -