-Advertisement-

اسلام آباد مذاکرات کی ناکامی: ٹرمپ کا آبنائے ہرمز میں فوری بحری ناکہ بندی کا حکم

تازہ ترین

امریکا اعتماد سازی میں ناکام، ایران کا پاکستان کے کردار کو سراہنے کا اعلان

تہران میں ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ حالیہ مذاکرات کے دوران امریکہ ایرانی...
-Advertisement-

واشنگٹن (ویب ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے جوہری پروگرام پر اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کی ناکامی کے بعد آبنائے ہرمز میں فوری طور پر بحری ناکہ بندی کا حکم دے دیا ہے۔ یہ اقدام خطے میں کشیدگی میں خطرناک اضافے کی علامت ہے اور عالمی تیل کی سپلائی لائن کے لیے سنگین خطرات پیدا کر رہا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کے روز اعلان کیا کہ امریکی بحریہ کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اس اہم آبی گزرگاہ سے گزرنے والے ہر قسم کے جہازوں کی نقل و حرکت کو روک دے۔ یہ فیصلہ اسلام آباد میں واشنگٹن اور تہران کے درمیان طویل مذاکرات کے بے نتیجہ ختم ہونے کے چند گھنٹوں بعد سامنے آیا ہے۔

امریکی صدر کا کہنا ہے کہ اگرچہ مذاکرات کے دوران زیادہ تر نکات پر اتفاق رائے ہوا تھا تاہم ایران کی جانب سے اپنے جوہری عزائم ترک کرنے سے انکار کے باعث امریکہ نے فیصلہ کن کارروائی کا راستہ اختیار کیا ہے۔ ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ امریکی بحریہ دنیا کی بہترین فورس ہے اور وہ فوری طور پر ناکہ بندی پر عمل درآمد شروع کر دے گی۔

نئی ہدایات کے تحت امریکی فورسز بین الاقوامی پانیوں میں ان جہازوں کو بھی نشانہ بنائیں گی جو ایران کو ٹرانزٹ فیس ادا کریں گے۔ واشنگٹن نے ایسی ادائیگیوں کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس عمل میں ملوث جہازوں کو محفوظ راستہ نہیں دیا جائے گا۔

آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی منڈیوں اور جہاز رانی کے لیے ایک انتہائی حساس گزرگاہ ہے جہاں سے دنیا بھر کی تیل کی ایک بڑی مقدار گزرتی ہے۔ اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کو امریکہ اور ایران کے مابین دیرینہ کشیدگی کم کرنے کی ایک کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا تھا تاہم جوہری پروگرام پر ڈیڈ لاک نے تمام سفارتی امیدوں کو ختم کر دیا ہے۔

اس تازہ پیش رفت سے خلیجی خطے میں سمندری سکیورٹی اور بین الاقوامی تجارت کے تسلسل پر گہرے سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں اور خطہ ایک نئی محاذ آرائی کی جانب بڑھتا دکھائی دے رہا ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -