-Advertisement-

ٹرمپ کا آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی اور ایران کو ٹیکس دینے والے جہازوں کو روکنے کا اعلان

تازہ ترین

ایران یا لبنان پر حملہ ترکی پر حملہ تصور ہوگا، صدر طیب اردوان کی اسرائیل کو سخت تنبیہ

انقرہ (ویب ڈیسک) ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے اسرائیل کو خبردار کیا ہے کہ ایران یا لبنان...
-Advertisement-

واشنگٹن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ امریکی بحریہ آبنائے ہرمز کا مکمل محاصرہ شروع کرے گی اور ان تمام جہازوں کو روکا جائے گا جنہوں نے ایران کو ٹول ٹیکس ادا کیا ہے۔ یہ فیصلہ پاکستان میں ہونے والے طویل مذاکرات کی ناکامی کے بعد سامنے آیا ہے۔

صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر اپنے بیان میں کہا کہ امریکی بحریہ فوری طور پر آبنائے ہرمز میں داخل ہونے یا وہاں سے نکلنے والے تمام جہازوں کا راستہ بند کرے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکی بحریہ کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ بین الاقوامی پانیوں میں ان تمام جہازوں کو تلاش کر کے روکیں جنہوں نے ایرانی حکام کو فیس ادا کی ہے۔ اس کے علاوہ امریکی فورسز آبنائے میں ایران کی جانب سے بچھائی گئی بارودی سرنگوں کو بھی تباہ کریں گی۔

صدر ٹرمپ نے دھمکی دی کہ جو بھی ایرانی فورسز امریکی یا پرامن جہازوں پر فائرنگ کرے گی اسے شدید جوابی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ لائیڈز لسٹ انٹیلی جنس کی حالیہ رپورٹ کے مطابق اب تک کم از کم دو جہاز ایرانی پاسداران انقلاب کو چینی یوآن میں فیس ادا کر چکے ہیں تاکہ آبنائے سے بحفاظت گزر سکیں۔ پاسداران انقلاب نے آبنائے ہرمز میں ایک غیر اعلانیہ ٹول ٹیکس کا نظام قائم کر رکھا ہے جس کے تحت جہازوں کو دستاویزات جمع کرانے اور ایران کی نگرانی میں گزرنے کا پابند کیا جاتا ہے۔

یہ پیشرفت اسلام آباد میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور ایرانی وفد کے درمیان ہونے والے براہ راست مذاکرات کی ناکامی کے بعد ہوئی ہے۔ نائب صدر وینس نے میڈیا کو بتایا کہ ایرانی فریق نے امریکی شرائط ماننے سے انکار کر دیا ہے جس کے بعد مذاکرات کا سلسلہ ختم ہو گیا ہے۔ پانچ روز قبل دونوں فریقین نے دو ہفتوں کی عارضی جنگ بندی پر اتفاق کیا تھا۔

صدر ٹرمپ نے تسلیم کیا کہ مذاکرات میں زیادہ تر نکات پر اتفاق ہوا تھا لیکن جوہری پروگرام پر ڈیڈ لاک برقرار رہا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران کو اس غیر قانونی بھتہ خوری سے منافع کمانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ امریکی صدر نے مزید کہا کہ ان کی فوج مکمل طور پر تیار ہے اور ضرورت پڑنے پر ایران کے خلاف سخت ترین کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -