-Advertisement-

ایران یا لبنان پر حملہ ترکی پر حملہ تصور ہوگا، صدر طیب اردوان کی اسرائیل کو سخت تنبیہ

تازہ ترین

پنجاب: اسکول ٹرانسپورٹ کی عدم فراہمی، بچوں کی زندگیوں کو شدید خطرات لاحق

پنجاب بھر کے سرکاری و نجی تعلیمی اداروں میں اسکول ٹرانسپورٹ کی عدم فراہمی سنگین مسئلہ بن چکی ہے۔...
-Advertisement-

انقرہ (ویب ڈیسک) ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے اسرائیل کو خبردار کیا ہے کہ ایران یا لبنان پر کسی بھی قسم کا فوجی حملہ ترکیہ پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے بڑھتے ہوئے واقعات اور عارضی جنگ بندی کے باوجود انقرہ اور تل ابیب کے درمیان سفارتی بیان بازی میں شدت آ گئی ہے۔

صدر اردوان کا کہنا ہے کہ ترکیہ کسی بھی صورت خاموش تماشائی نہیں بنے گا اور اگر اسرائیل نے پڑوسی ممالک بالخصوص ایران اور لبنان کو ہدف بنانے کی اشتعال انگیز کارروائیاں جاری رکھیں تو ترکیہ اسے سبق سکھانے کے لیے تیار ہے۔ ترک قیادت نے اسرائیل پر خطے میں عدم استحکام پھیلانے کا الزام عائد کیا ہے۔

دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے خلاف فوجی مہم ابھی ختم نہیں ہوئی ہے۔ نیتن یاہو نے ایک ویڈیو بیان میں دعویٰ کیا کہ اسرائیل نے ایران کے آٹھ ایٹمی سائنسدانوں کو ہلاک اور اراک میں ہیوی واٹر ری ایکٹر سمیت اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے لبنان میں حالیہ کارروائیوں کا ذکر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ حزب اللہ کی میزائل صلاحیتوں کو تباہ کر کے جنوبی لبنان میں دس کلومیٹر تک سکیورٹی زون قائم کر دیا گیا ہے۔

اسرائیلی وزیراعظم کے ان دعووں پر عالمی سطح پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ خود اسرائیل کے اندر بھی اپوزیشن رہنما یائر لاپڈ نے نیتن یاہو پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنی سفارتی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے جنگی بیان بازی کا سہارا لے رہے ہیں۔

ترکیہ کے ڈائریکٹر مواصلات برہان الدین دوران نے نیتن یاہو کو ایک مجرم قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہیں دوسروں کو اخلاقی درس دینے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے، خاص طور پر جب ان کے خلاف بین الاقوامی فوجداری عدالت سے وارنٹ گرفتاری جاری ہو چکے ہوں۔ انقرہ کا موقف ہے کہ اسرائیل توسیع پسندانہ پالیسیوں پر عمل پیرا ہے جو خطے میں امن کی کوششوں کو سبوتاژ کر رہی ہیں۔

اس دوران اسرائیل کے اندر بھی عوامی بے چینی میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ تل ابیب، یروشلم، حیفہ اور بیرشیبہ سمیت مختلف شہروں میں جنگ مخالف مظاہروں کا سلسلہ چھٹے ہفتے بھی جاری ہے۔ مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ حکومت فوجی کارروائیوں کے بجائے سفارتی حل کی جانب توجہ دے اور لبنان میں مزید کشیدگی سے گریز کرے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ صدر اردوان کی جانب سے اسرائیل کو دی گئی سخت تنبیہ نے خطے کی صورتحال کو ایک نئے موڑ پر لا کھڑا کیا ہے جس سے وسیع تر علاقائی تصادم کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ فی الحال ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کی حیثیت انتہائی غیر مستحکم ہے اور کسی بھی وقت ٹوٹنے کا خطرہ برقرار ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -