ہیٹی کے تاریخی قلعے میں ایسٹر کے سالانہ اجتماع کے دوران بھگدڑ مچنے سے کم از کم 30 افراد ہلاک ہو گئے۔ یہ افسوسناک واقعہ شمالی قصبے میلوٹ میں واقع انیسویں صدی کے مشہور سیاحتی مقام اور یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے میں شامل قلعہ ہنری، جسے قلعہ لافیریئر بھی کہا جاتا ہے، میں پیش آیا۔
وزیر ثقافت ایمانوئل مینارڈ نے اتوار کے روز میڈیا کو بتایا کہ زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے جبکہ ریسکیو ٹیمیں لاپتہ افراد کی تلاش میں مصروف ہیں۔ مقامی حکام کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ موجود ہے۔
ہیٹی کے وزیراعظم ایلکس ڈیڈیئر فِلس آئمے نے واقعے پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ سانحہ اس وقت پیش آیا جب نوجوانوں کی بڑی تعداد وہاں موجود تھی۔ انہوں نے واقعے کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے اور تمام متعلقہ اداروں کو متاثرین کی مدد کے لیے متحرک کر دیا گیا ہے۔
سوشل میڈیا پر جاری بیان میں وزیراعظم نے سوگوار خاندانوں سے تعزیت کا اظہار کیا اور عوام سے پرسکون رہنے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت صورتحال کی نگرانی کر رہی ہے اور تحقیقات کے بعد سانحے کی اصل وجوہات سامنے لائی جائیں گی۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق قلعے کے داخلی دروازے پر رش کے دوران اندر آنے اور باہر جانے والوں کے درمیان دھکم پیل ہوئی جس کے نتیجے میں بھگدڑ مچی۔ مقامی میڈیا کا کہنا ہے کہ یہ اجتماع ٹک ٹاک پر تشہیر کے بعد منعقد کیا گیا تھا۔
انتظامیہ نے سیاحتی مقام کو تاحکم ثانی بند کر دیا ہے۔ وزیر ثقافت کے مطابق حکام ہائی الرٹ پر ہیں تاکہ متاثرین کو فوری ریلیف فراہم کیا جا سکے۔ یہ قلعہ ہیٹی کے انقلابی ہیرو ہنری کرسٹوفر نے فرانس سے آزادی کے بعد تعمیر کروایا تھا اور یہ ہیٹی کی آزادی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
