امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے طویل مذاکرات میں سہولت کاری کے لیے پاکستان کی قیادت کی بھرپور تعریف کی ہے۔ صدر ٹرمپ نے وزیراعظم شہباز شریف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے انہیں انتہائی قابل اور باصلاحیت قرار دیا۔
واشنگٹن سے جاری بیان کے مطابق اسلام آباد میں اکیس گھنٹے تک جاری رہنے والے مذاکرات میں پاکستان نے میزبان اور ثالث کا کلیدی کردار ادا کیا۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ سول اور عسکری قیادت کی بروقت مداخلت اور مربوط کوششوں کے باعث دونوں وفود کے درمیان باقاعدہ اور منظم بات چیت کا عمل ممکن ہو سکا۔
مذاکرات کی قیادت کرنے والے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی پاکستان کے کردار کو شاندار قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد نے واشنگٹن اور تہران کے درمیان خلیج کو کم کرنے میں اہم خدمات انجام دی ہیں۔ ایرانی وفد کے سربراہ اور پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے بھی پاکستان کو برادر اور دوستانہ ملک قرار دیتے ہوئے مذاکرات کی میزبانی پر شکریہ ادا کیا۔
اسلام آباد میں ہونے والے یہ مذاکرات ہفتے کی سہ پہر شروع ہو کر اتوار کی صبح تک جاری رہے۔ ان اجلاسوں میں ایران کے جوہری پروگرام، پابندیوں کے خاتمے، منجمد اثاثوں اور علاقائی سلامتی کے امور پر تفصیلی غور کیا گیا۔ فریقین نے ماہرین کی سطح پر تحریری تجاویز کا تبادلہ بھی کیا جسے ایک تکنیکی اور سنجیدہ پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ اگرچہ بنیادی معاملات پر اختلافات برقرار ہیں تاہم مذاکرات کے دوران کچھ نکات پر اتفاق رائے بھی ہوا ہے۔ انہوں نے ایک بار پھر زور دیا کہ امریکہ ایران کے جوہری عزائم کے حوالے سے اپنی پالیسی پر سختی سے قائم ہے اور جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدوں کو یقینی بنانا واشنگٹن کی اولین ترجیح ہے۔
اپنی گفتگو کے دوران امریکی صدر نے آبنائے ہرمز کی سیکیورٹی کے حوالے سے اپنے سابقہ موقف کا اعادہ کیا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ عالمی تجارت کے لیے اہم اس سمندری راستے پر کسی بھی قسم کی رکاوٹ یا نقل و حمل کو متاثر کرنے والی کارروائی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔
مذاکرات کے بعد امریکی اور ایرانی وفود نے پاکستان کی مہمان نوازی اور سفارتی کوششوں کو سراہتے ہوئے اسلام آباد سے رخت سفر باندھ لیا۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان رابطے کے ذرائع کھلے ہیں اور سفارتی سطح پر بات چیت کا عمل جاری رہے گا۔
