-Advertisement-

ایران کا اسلام آباد مذاکرات ناکام بنانے کا الزام، امریکا پر معاہدے کے قریب پہنچ کر رخنہ ڈالنے کا دعویٰ

تازہ ترین

برطانیہ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کی حمایت نہیں کرے گا، وزیراعظم کیئر اسٹارمر

برطانیہ کے وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے پیر کے روز واضح کیا ہے کہ کسی بھی قسم کے دباؤ کے...
-Advertisement-

ایران نے پیر کے روز امریکہ پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے اسلام آباد میں جاری مذاکرات کو سبوتاژ کر دیا ہے، حالانکہ دونوں فریقین ایک معاہدے کے قریب پہنچ چکے تھے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ تہران نے جنگ کے خاتمے کے لیے امریکہ کے ساتھ نیک نیتی سے مذاکرات کیے۔

عباس عراقچی کے مطابق دونوں فریقین اسلام آباد مفاہمت کی یادداشت کے انتہائی قریب تھے، تاہم امریکی جانب سے غیر لچکدار رویے، اہداف میں مسلسل تبدیلی اور رکاوٹیں کھڑی کرنے کے باعث پیش رفت نہ ہو سکی۔ انہوں نے تنبیہ کی کہ حسنِ نیت کا جواب حسنِ نیت سے ہی دیا جاتا ہے، جبکہ دشمنی کا انجام دشمنی ہی ہوتا ہے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب 47 برسوں میں پہلی بار دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ ترین سطح پر انتہائی اہم مذاکرات ہوئے تھے۔ تاہم، مذاکرات کے بعد امریکی سینٹرل کمانڈ کی جانب سے اعلان کیا گیا کہ پیر سے ایرانی بندرگاہوں پر آنے اور جانے والی تمام سمارتی ٹریفک پر ناکہ بندی کا آغاز کر دیا جائے گا۔ اس پابندی سے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ایسے جہاز مستثنیٰ ہوں گے جن کا تعلق ایران سے نہیں ہے۔

پاکستان کی ثالثی میں اسلام آباد میں ہونے والے یہ مذاکرات کئی دور کے بعد بغیر کسی حتمی معاہدے کے ختم ہو گئے۔ دونوں فریقین اہم معاملات پر اختلافات برقرار رہنے کے باوجود مزید سفارتی کوششوں کی ضرورت پر متفق دکھائی دیے۔

یہ بات چیت 28 فروری سے ایران پر جاری امریکی و اسرائیلی جنگ کو ختم کرنے کی وسیع تر کوششوں کا حصہ تھی، جس کے تحت دو ہفتوں کی ایک نازک جنگ بندی پر اتفاق کیا گیا تھا۔ مذاکرات کی ناکامی کے بعد اب خطے میں کشیدگی کے دوبارہ بڑھنے کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -