-Advertisement-

برطانیہ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کی حمایت نہیں کرے گا، وزیراعظم کیئر اسٹارمر

تازہ ترین

ایران کے جوہری پروگرام پر پوپ کے بیان پر ڈونلڈ ٹرمپ کا اظہارِ برہمی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کیتھولک مسیحیوں کے روحانی پیشوا پوپ لیو چہار دہم کے امن کے مطالبے پر...
-Advertisement-

برطانیہ کے وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے پیر کے روز واضح کیا ہے کہ کسی بھی قسم کے دباؤ کے باوجود برطانیہ ایران کے ساتھ جنگ میں شامل نہیں ہوگا اور نہ ہی آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی میں حصہ لے گا۔ بی بی سی ریڈیو فائیو لائیو سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ اس ناکہ بندی کی حمایت نہیں کرتے اور ان کی حکومت آبنائے کو دوبارہ کھولنے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہی ہے۔

وزیراعظم اسٹارمر کا کہنا تھا کہ ان کی نظر میں آبنائے ہرمز کا مکمل طور پر کھلا رہنا انتہائی اہم ہے اور گزشتہ چند روز سے ان کی تمام تر توجہ اسی مقصد پر مرکوز ہے۔ انہوں نے تصدیق کی کہ خطے میں برطانوی مائن سویپرز موجود ہیں، تاہم انہوں نے آپریشنل معاملات پر مزید بات کرنے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ برطانوی عسکری صلاحیت کا واحد مقصد آبنائے کو بحال رکھنا ہے۔

دوسری جانب امریکی فوج نے اعلان کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات ناکام ہونے کے بعد پیر کے روز سے ایرانی بندرگاہوں اور ساحلی علاقوں میں داخل ہونے والے اور وہاں سے نکلنے والے تمام بحری جہازوں کی ناکہ بندی شروع کر دی گئی ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق یہ ناکہ بندی پیر کو صبح دس بجے (جی ایم ٹی وقت کے مطابق دوپہر دو بجے) شروع ہوئی جو خلیج عرب اور خلیج عمان میں واقع ایرانی بندرگاہوں پر آنے جانے والے تمام ممالک کے جہازوں پر بلاامتیاز لاگو ہوگی۔ تاہم امریکی حکام کا کہنا ہے کہ جو جہاز ایرانی بندرگاہوں کے علاوہ دیگر مقامات کے لیے آبنائے ہرمز سے گزریں گے، انہیں نہیں روکا جائے گا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کو سوشل میڈیا پر ایک بیان میں کہا کہ امریکی فورسز بین الاقوامی پانیوں میں ایسے ہر جہاز کو روکے گی جس نے ایران کو ٹیکس ادا کیا ہوگا۔ صدر ٹرمپ نے خبردار کیا کہ غیر قانونی ٹیکس ادا کرنے والوں کو کھلے سمندر میں محفوظ راستہ نہیں ملے گا اور جو بھی ایرانی فورسز ان پر یا پرامن جہازوں پر فائرنگ کرے گی، اسے شدید جوابی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -