ترکی کے وزیر خارجہ ہاکن فیدان نے آبنائے ہرمز کے حوالے سے ایران یا امریکہ کی جانب سے کسی بھی نئی ضابطہ بندی کے نفاذ پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ سرکاری خبر رساں ادارے اناطولیہ کے مطابق ہاکن فیدان نے کہا ہے کہ عالمی فورس کے ذریعے اس آبی گزرگاہ کو کھولنے کی تجاویز پر عمل درآمد میں سنگین مشکلات حائل ہیں۔
ترک وزیر خارجہ جو امریکہ، ایران اور ثالث کے کردار میں موجود پاکستان کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں، کا کہنا ہے کہ ہرمز کا معاملہ سفارت کاری کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے زور دیا کہ مذاکرات کاروں کو ایران کے ساتھ بات چیت میں قائل کرنے والے طریقوں کا استعمال کرنا چاہیے کیونکہ کوئی بھی فریق یہ نہیں چاہتا کہ یہ آبنائے جنگ کا حصہ بنے۔
ہاکن فیدان نے خبردار کیا کہ جاری جنگ کے تناظر میں بین الاقوامی مسلح فورس کی مداخلت کے نتائج غیر متوقع ہو سکتے ہیں اور کئی ممالک اس اقدام میں دلچسپی نہیں رکھتے۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ ایران اس آبی گزرگاہ پر اپنے کنٹرول کو مزید فعال کر سکتا ہے جس سے نئے ضوابط کا مسئلہ پیدا ہو سکتا ہے۔
عالمی توانائی کی پانچویں حصے کی ترسیل کے حامل اس اہم راستے کی بندش کے بعد عالمی منڈی میں قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔ ایران نے یہ اقدام امریکی اور اسرائیلی حملوں کے ردعمل میں اٹھایا ہے۔
دوسری جانب امریکی فوج نے پیر سے ایرانی بندرگاہوں اور ساحلی علاقوں میں آنے اور جانے والی تمام سمندری نقل و حمل کی ناکہ بندی کا اعلان کیا ہے۔ واشنگٹن اپنے اتحادیوں سے آبنائے ہرمز کو کھولنے میں مدد کا خواہاں ہے تاہم تاحال کسی ملک نے اس میں شمولیت پر آمادگی ظاہر نہیں کی ہے۔
ترک وزیر خارجہ نے کہا کہ امریکہ اور ایران جنگ بندی کے مذاکرات میں مخلص ہیں تاہم اگر انہوں نے ایرانی جوہری افزودگی کے معاملے کو سب کچھ یا کچھ نہیں کے نقطہ نظر سے دیکھا تو مذاکرات تعطل کا شکار ہو سکتے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ہاکن فیدان نے اتوار کے روز مذاکرات میں شامل امریکی اور پاکستانی حکام سے تفصیلی گفتگو کی ہے۔
