-Advertisement-

ایران، امریکا کشیدگی: پاکستان کی ‘اسلام آباد پراسیس’ کے دوسرے دور کے لیے سفارتی کوششیں تیز

تازہ ترین

مغربی بحر الکاہل: امریکی جزائر پر سال کے طاقتور ترین سپر ٹائفون کا خطرہ

بحر الکاہل کے مغربی حصے میں واقع امریکی جزائر بشمول گوام شدید ترین سمندری طوفان سنلاکُو کی زد میں...
-Advertisement-

اسلام آباد نے تہران اور واشنگٹن کے درمیان جاری کشیدگی کے خاتمے اور دونوں فریقین کو مذاکرات کی میز پر واپس لانے کے لیے سفارتی کوششیں تیز کر دی ہیں۔ اعلیٰ سرکاری ذرائع نے سی بی ایس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ پاکستان دونوں ممالک کے درمیان جاری رابطوں کو بحال کرنے کے لیے سرگرم عمل ہے۔

گزشتہ اختتام ہفتہ ہونے والے براہ راست مذاکرات میں کسی حتمی نتیجے تک نہ پہنچنے کے باوجود پاکستانی حکام نے محتاط امید ظاہر کی ہے کہ دونوں فریقین کے درمیان بات چیت کا عمل جاری رہے گا۔ اس پیش رفت کے حوالے سے اب اسلام آباد کی جانب سے ان مذاکرات کو اسلام آباد ٹاکس کے بجائے اسلام آباد پراسیس کا نام دیا جا رہا ہے جس کا مقصد اس عمل کو ایک وقتی ملاقات کے بجائے ایک مستقل سفارتی راستے کے طور پر پیش کرنا ہے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان کی جانب سے امریکہ اور ایران پر زور دیا جا رہا ہے کہ وہ جلد از جلد دوبارہ مذاکرات کا آغاز کریں۔ اس سفارتی کوشش کا بنیادی مقصد بائیس اپریل کو ختم ہونے والی موجودہ جنگ بندی سے قبل ایک قابل عمل مفاہمت تک پہنچنا ہے تاکہ خطے کو ایک بار پھر مکمل جنگ کی لپیٹ میں آنے سے بچایا جا سکے۔

یہ سفارتی اقدامات وزیر اعظم شہباز شریف اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کی براہ راست ہدایات پر کیے جا رہے ہیں۔ دونوں رہنماؤں نے فریقین کو ایک میز پر لانے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے اور اکیس گھنٹے طویل جاری رہنے والے غیر حتمی مذاکرات کے دوران مختلف اوقات میں موجود رہ کر عمل کو آگے بڑھانے کے لیے کوشاں رہے۔

پاکستان اب امریکہ اور ایران کی جانب سے حتمی ردعمل کا منتظر ہے۔ اگر موجودہ جنگ بندی برقرار رہتی ہے تو پاکستان کو فریقین کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے مزید وقت مل سکتا ہے۔ تاہم آبنائے ہرمز میں امریکی ناکہ بندی کے خدشات اور ایرانی جوابی کارروائی کے اعلانات کے پیش نظر سفارتی حلقوں میں وقت کی اہمیت کو دن کے بجائے گھنٹوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔

ایٹمی طاقت اور پچیس کروڑ آبادی کا حامل پاکستان ان کوششوں کے ذریعے عالمی سطح پر اپنی ساکھ بہتر بنانے اور معاشی استحکام کے لیے سرمایہ کاری کے مواقع پیدا کرنے کا خواہاں ہے۔ ان مذاکرات میں ثالثی کا کردار ادا کرنا پاکستان کے لیے ایک بڑی سفارتی کامیابی ثابت ہو سکتی ہے جس سے ملک کی عالمی حیثیت میں بھی اضافہ متوقع ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -