امریکی ریاست شمالی کیرولائنا کی وفاقی عدالت میں اوبر کے خلاف ایک اور اہم مقدمے کی سماعت منگل سے شروع ہو رہی ہے۔ یہ مقدمہ ایک ایسی خاتون نے دائر کیا ہے جس کا الزام ہے کہ اوبر کے ذریعے بک کی گئی سواری کے دوران ڈرائیور نے اسے جنسی ہراساں کیا۔ یہ مقدمہ ان تین ہزار تین سو سے زائد کیسز کا حصہ ہے جو فیڈرل کورٹ میں یکجا کیے گئے ہیں اور ان کا فیصلہ اوبر کے مستقبل کے لیے انتہائی اہم تصور کیا جا رہا ہے۔
متاثرہ خاتون کا موقف ہے کہ مارچ دو ہزار انیس کی رات دو بجے کے قریب جب وہ رالی کے مقام پر اپنی منزل پر پہنچی تو ڈرائیور نے اس کی ران کو چھوا اور نازیبا جملے کسے جس کے بعد وہ خوفزدہ ہو کر گاڑی سے بھاگ نکلی۔ اس مقدمے کی سماعت تین ہفتے جاری رہنے کی توقع ہے جس کی صدارت امریکی ڈسٹرکٹ جج چارلس بریئر کریں گے۔
اوبر نے واقعے سے انکار نہیں کیا تاہم عدالت میں جمع کرائے گئے جواب میں موقف اختیار کیا ہے کہ وہ ایک سافٹ ویئر کمپنی ہے نہ کہ ٹیکسی سروس، اس لیے شمالی کیرولائنا کے قوانین کے تحت مسافروں کی حفاظت کی قانونی ذمہ داری کمپنی پر عائد نہیں ہوتی۔ مزید برآں، اوبر کا کہنا ہے کہ ڈرائیور ایک آزاد کنٹریکٹر ہے، لہذا اس کے اقدامات کی ذمہ داری کمپنی پر نہیں ڈالی جا سکتی۔
اس سے قبل فروری میں ایریزونا سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون کے مقدمے میں جیوری نے اوبر کو ذمہ دار قرار دیتے ہوئے متاثرہ خاتون کو ساڑھے آٹھ ملین ڈالر ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا تھا۔ اوبر نے اس فیصلے کو چیلنج کر رکھا ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق موجودہ مقدمہ ایک آزمائشی کیس کی حیثیت رکھتا ہے، جس کا فیصلہ باقی ماندہ ہزاروں مقدمات کے تصفیے کے لیے ایک معیار قائم کر سکتا ہے۔
اوبر کے ترجمان نے اپنے بیان میں کہا کہ شمالی کیرولائنا کا یہ واقعہ نہ تو کمپنی کو رپورٹ کیا گیا اور نہ ہی قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اس سے آگاہ کیا گیا، بلکہ یہ معاملہ تب سامنے آیا جب خاتون نے عدالت سے رجوع کیا۔ ترجمان کے مطابق کمپنی جنسی تشدد کو ایک سنگین جرم سمجھتی ہے اور مسافروں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے ٹیکنالوجی اور پالیسیوں میں بہتری کے لیے پرعزم ہے۔
اس وقت اوبر کو صرف وفاقی عدالتوں میں ہی نہیں بلکہ کیلیفورنیا کی ریاستی عدالتوں میں بھی پانچ سو سے زائد ایسے ہی مقدمات کا سامنا ہے۔ کیلیفورنیا میں ستمبر میں ہونے والے ایک مقدمے میں جیوری نے اوبر کے حق میں فیصلہ دیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ اگرچہ کمپنی حفاظتی اقدامات میں ناکام رہی تاہم اس کی غفلت متاثرہ خاتون کو پہنچنے والے نقصان کی بنیادی وجہ نہیں تھی۔
